قسط سوم: نور الدین زنگی — وہ شخص جو تاریخ نے بھلا دیا

​تمہید: اتحاد کی تکمیل اور منزلِ مقصود

​پچھلی دو اقساط میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح نور الدین زنگی نے شام کو متحد کیا، مدارس کا جال بچھایا اور مصر میں اپنی طاقت کا لوہا منوایا۔ اب تاریخ کے اس موڑ پر سلطان کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد یعنی “بیت المقدس کی آزادی” بالکل قریب دکھائی دے رہی تھی۔ سلطان نے اپنی پوری زندگی جس اتحاد کے لیے وقف کی تھی، وہ اب عملی شکل اختیار کر چکا تھا۔

​اس تیسری قسط میں ہم ذکر کریں گے کہ کس طرح سلطان نے صلیبی ریاستوں کا گھیرا تنگ کیا، مصر میں فاطمی خلافت کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو سنبھالا اور وہ کون سی وصیتیں تھیں جو انہوں نے آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑیں۔

​مصر میں خلافتِ عباسیہ کا قیام: ایک عظیم سیاسی موڑ

​1171ء وہ سال تھا جس نے عالمِ اسلام کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ مصر میں فاطمی خلافت دم توڑ چکی تھی اور نور الدین زنگی کے زیرِ اثر وہاں کا نظام چل رہا تھا۔ سلطان نے صلاح الدین ایوبی کو حکم بھیجا کہ مصر میں فاطمی خلیفہ کے بجائے عباسی خلیفہ کا خطبہ پڑھا جائے۔

​یہ ایک انتہائی نازک فیصلہ تھا، کیونکہ مصر میں کئی صدیوں سے فاطمی مسلک کا اثر تھا۔ لیکن سلطان کی سیاسی بصیرت اور صلاح الدین ایوبی کی حکمتِ عملی نے اسے ممکن کر دکھایا۔ بغیر کسی خون ریزی کے، مصر دوبارہ عالمِ اسلام کے مرکزی دھارے (سنی خلافت) میں شامل ہو گیا۔ اس اتحاد نے صلیبیوں کو خوفزدہ کر دیا کیونکہ اب شام اور مصر ایک ہی حکم کے تابع تھے اور صلیبی ریاستیں ان دونوں کے درمیان ایک سینڈوچ کی طرح پھنس کر رہ گئی تھیں۔

​صلیبی ریاستوں کا معاشی اور عسکری محاصرہ

​نور الدین زنگی صرف میدانِ جنگ کے شہسوار نہیں تھے، وہ معاشی جنگ کے بھی ماہر تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ صلیبی ریاستیں اپنی بقا کے لیے یورپ سے آنے والی سمندری امداد پر منحصر ہیں۔ سلطان نے مصر اور شام کے ساحلوں پر بحری بیڑے مضبوط کیے تاکہ دشمن کی سپلائی لائن کاٹی جا سکے۔

​قلعہِ کرک اور قلعہِ شوبک پر دباؤ

​اردن کے علاقے میں واقع یہ دونوں قلعے صلیبیوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے کیونکہ یہ دمشق، مکہ اور مصر کے درمیان تجارتی اور حاجیوں کے راستوں پر واقع تھے۔ سلطان نے ان قلعوں پر مسلسل حملے کیے اور صلیبیوں کو مجبور کیا کہ وہ دفاعی پوزیشن اختیار کریں۔ ان مہمات کا مقصد بیت المقدس پر حملے کے لیے راستے صاف کرنا تھا۔

​سلطان کی جنگی حکمتِ عملی: دفاع سے جارحیت تک

​نور الدین زنگی نے اپنی فوج میں “متحرک دستوں” (Mobile Units) کا اضافہ کیا تھا۔ یہ دستے ہلکے ہتھیاروں سے لیس ہوتے تھے اور دشمن پر اچانک حملہ کر کے غائب ہو جاتے تھے۔

​منجنیقوں کا استعمال اور قلعہ شکن آلات

​سلطان نے انجینئرز کی ایک ٹیم تیار کی تھی جو بڑے بڑے قلعوں کی دیواریں گرانے کے لیے وزنی منجنیقیں اور “دبابہ” (لکڑی کے متحرک مینار) بناتے تھے۔ انہوں نے صلیبیوں کے ان قلعوں کو جو ناقابلِ تسخیر سمجھے جاتے تھے، اپنی تکنیکی مہارت سے فتح کیا۔ سلطان خود جنگ کے دوران نقشے بناتے اور سپاہیوں کو مورچہ بندی کی تربیت دیتے۔

​سلطان کا روحانی محاذ: علماء اور صوفیاء کا کردار

​سلطان نور الدین زنگی کا ماننا تھا کہ “دعا، دوا سے زیادہ اثر رکھتی ہے”۔ انہوں نے اپنی فوج کے ساتھ علماء اور صوفیاء کا ایک مستقل گروہ رکھا ہوا تھا۔ وہ جنگ سے پہلے ان سے دعا کی درخواست کرتے اور خود سجدے میں گر کر اللہ سے فتح مانگتے۔

​تاریخ میں لکھا ہے کہ ایک بار جب عیسائیوں کا لشکر بہت بڑا تھا اور مسلمان پریشان تھے، تو سلطان نے ایک تنہا مقام پر جا کر مٹی پر سر رکھ دیا اور رو کر کہا: “اے اللہ! نور الدین کی مدد نہ کر کیونکہ وہ گناہ گار ہے، تو اپنے دین کی مدد کر جس کی حفاظت کا ذمہ تو نے لیا ہے”۔ اسی رات اللہ نے مسلمانوں کو ایسی فتح عطا کی کہ دشمن کے قدم اکھڑ گئے۔

​دار الحدیث اور علمی میراث کی تکمیل

​اپنی زندگی کے آخری سالوں میں سلطان نے دمشق میں پہلا باقاعدہ “دار الحدیث” (حدیث کی درسگاہ) قائم کیا۔ اس سے پہلے حدیث کی تعلیم مساجد میں دی جاتی تھی، لیکن سلطان نے اس کے لیے ایک الگ شاندار عمارت بنائی۔ انہوں نے حلب، حماۃ، حمص اور بعلبک میں بھی اسی طرح کے ادارے بنائے۔

​ان اداروں کا اثر یہ ہوا کہ اسلامی دنیا میں “علمِ حدیث” کو نئی زندگی ملی اور ایسے جید علماء پیدا ہوئے جنہوں نے عوام کے عقائد کی اصلاح کی۔ سلطان کا یہ علمی انقلاب دراصل اس “اسلامی نشاۃِ ثانیہ” کا دیباچہ تھا جس کا پھل آج بھی امت چکھ رہی ہے۔

​روضہِ رسول ﷺ کی سیسہ پلائی دیوار (تکنیکی تفصیلات)

​پچھلی قسط میں ذکر کردہ واقعے کے بعد سلطان نے مدینہ منورہ کے گرد ایک نئی فصیل بھی تعمیر کروائی۔ انہوں نے حکم دیا کہ روضہ مبارک کے گرد جو سیسہ پلائی دیوار بنائی جائے، اس کی گہرائی اتنی ہو کہ زمین کے نیچے سے کوئی بھی جانور یا انسان وہاں تک نہ پہنچ سکے۔ اس کام کے لیے انہوں نے شام سے ماہر معمار اور تانبا پگھلانے والے کاریگر بلوائے تھے۔ یہ دیوار آج بھی روضہِ رسول ﷺ کی حفاظت کر رہی ہے۔

​وفاتِ حسرت آیات: ایک سورج کا غروب ہونا

​1174ء کا سال عالمِ اسلام پر بہت بھاری ثابت ہوا۔ سلطان نور الدین زنگی بیت المقدس پر آخری اور فیصلہ کن حملے کی تیاری مکمل کر چکے تھے۔ تمام محاذوں سے فوجیں دمشق میں جمع ہو رہی تھیں۔ اسی دوران سلطان کو گلے کی ایک شدید تکلیف (جسے تاریخ دانوں نے ‘خناق’ لکھا ہے) لاحق ہوئی۔

​علماء اور طبیبوں نے علاج کی بہت کوشش کی، لیکن سلطان کی حالت بگڑتی گئی۔ 15 مئی 1174ء کو اسلام کا یہ عظیم سپوت، عادل حکمران اور مجددِ جہاد 56 سال کی عمر میں خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ ان کی وفات کی خبر سن کر پوری اسلامی دنیا میں صفِ ماتم بچھ گئی، جبکہ صلیبیوں کے کیمپوں میں خوشی کے شادیانے بجائے گئے۔

​سلطان کی تدفین اور مزار

​سلطان کو پہلے دمشق کے قلعے میں دفن کیا گیا، لیکن بعد میں ان کی وصیت کے مطابق ان کی میت کو ان کے قائم کردہ “مدرسہ نوریہ” میں منتقل کر دیا گیا۔ آج بھی دمشق کے بازاروں کے بیچوں بیچ ان کا مزار مرجعِ خلائق ہے، جو ان کی سادگی اور علمی محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

​نور الدین زنگی کی میراث: صلاح الدین ایوبی کا ظہور

​سلطان نور الدین زنگی کی وفات کے وقت ان کا بیٹا اسماعیل چھوٹا تھا، جس کی وجہ سے سلطنت میں کچھ انتشار پیدا ہوا، لیکن سلطان نے جو بنیادیں رکھی تھیں وہ اتنی مضبوط تھیں کہ ان پر زوال آنا ناممکن تھا۔ سلطان کے تربیت یافتہ جرنیلوں، خاص طور پر صلاح الدین ایوبی نے اس مشعل کو تھام لیا۔

​صلاح الدین ایوبی اکثر کہا کرتے تھے: “میں نے جو کچھ سیکھا، وہ نور الدین زنگی سے سیکھا”۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر نور الدین شام اور مصر کو متحد نہ کرتے اور عوام کی اخلاقی تربیت نہ کرتے، تو صلاح الدین کے لیے بیت المقدس فتح کرنا ناممکن ہوتا۔ نور الدین زنگی نے “بیج” بویا تھا، جس کی “فصل” صلاح الدین ایوبی نے کاٹی۔

​سلطان نور الدین زنگی کی شخصیت کا خلاصہ

​اگر ہم سلطان کی زندگی کا خلاصہ کریں تو ہمیں تین نمایاں پہلو ملتے ہیں:

  1. اخلاص: انہوں نے کبھی اپنی شہرت کے لیے کام نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ ‘گمنام ہیرو’ بن کر رہنا پسند کیا۔
  2. عدل: ان کے دور میں کوئی طاقتور کسی کمزور کا حق نہیں مار سکتا تھا۔
  3. وژن: انہوں نے دیکھا کہ امت کی کامیابی کا راز ‘تعلیم اور اتحاد’ میں ہے۔

​اختتامیہ

​سلطان نور الدین محمود زنگی تاریخ کے وہ گمنام سپاہی ہیں جنہوں نے ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑا اور بکھری ہوئی امت کو ایک پرچم تلے لائے۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ عظیم مقاصد کے لیے بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ وہ آج جسمانی طور پر ہمارے درمیان نہیں، لیکن ان کا لگایا ہوا “شجرِ جہاد و علم” آج بھی امتِ مسلمہ کو سایہ فراہم کر رہا ہے۔

​مسجدِ اقصیٰ کے وہ در و دیوار، مدینہ منورہ کی وہ سیسہ پلائی دیوار اور دمشق کے وہ مدارس آج بھی پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ جب تک مسلمان اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلتے رہیں گے، وہ کبھی مغلوب نہیں ہوں گے۔

Leave a Comment