تمہید: ایک نئے عہد کا آغاز
پہلی قسط میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح نور الدین زنگی نے حلب اور دمشق جیسے اہم شہروں کو متحد کر کے ایک ایسی طاقت کی بنیاد رکھی جس نے صلیبیوں کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ لیکن یہ تو صرف آغاز تھا۔ نور الدین زنگی کا اصل مشن صرف شہر فتح کرنا نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی نسل تیار کرنا تھا جو نظریاتی، اخلاقی اور روحانی طور پر اتنی مضبوط ہو کہ بیت المقدس کی آزادی کا خواب حقیقت بن سکے۔
وہ جانتے تھے کہ جب تک مسلمان فرقہ واریت اور داخلی انتشار کا شکار رہیں گے، وہ کبھی بھی بیرونی دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ اس لیے انہوں نے اپنی تلوار سے زیادہ اپنی توجہ “تعمیرِ سیرت” اور “اتحادِ امت” پر مرکوز کی۔
تعلیمی اور نظریاتی انقلاب: مدارس کا جال
نور الدین زنگی اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ صلیبیوں کی عسکری قوت کا مقابلہ محض ہتھیاروں سے نہیں کیا جا سکتا۔ مسلمانوں کی ذہنی اور فکری پستی کا علاج صرف تعلیم اور تربیت میں تھا۔ انہوں نے اپنی سلطنت کے طول و عرض میں مدارس کا ایک جال بچھایا۔

مدرسہ نوریہ اور اس کا کردار
دمشق کا “مدرسہ نوریہ” اس وقت کی سب سے بڑی درسگاہ بن کر ابھرا۔ یہاں صرف مذہبی تعلیم ہی نہیں دی جاتی تھی، بلکہ فلسفہ، تاریخ، ریاضی اور عسکری انتظام و انصرام کی تربیت بھی شامل تھی۔ سلطان خود ان مدارس کی نگرانی کرتے تھے اور اساتذہ کے لیے بھاری وظائف مقرر کرتے تھے۔ ان کا مقصد ایسے نوجوان پیدا کرنا تھا جو ذہنی طور پر اتنے مضبوط ہوں کہ وہ دشمن کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کر سکیں۔
ان مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء نے بعد میں نوری اور ایوبی سلطنتوں میں اہم انتظامی عہدے سنبھالے اور ایک ایسی بیوروکریسی تشکیل دی جو امانت اور دیانت کا مرقع تھی۔ سلطان کا یہ تعلیمی مشن ہی تھا جس نے مسلمانوں کے اندر “امت” کا تصور دوبارہ زندہ کیا۔
مصر کی مہم: ایک عظیم تزویراتی جنگ
عالمِ اسلام اس وقت ایک خطرناک تقسیم کا شکار تھا۔ شام میں نور الدین کی سنی حکومت تھی جبکہ مصر میں فاطمی خلافت اپنے آخری دور میں تھی اور اندرونی سازشوں کا گڑھ بنی ہوئی تھی۔ صلیبیوں کا منصوبہ یہ تھا کہ اگر وہ مصر پر قبضہ کر لیں تو وہ مسلمانوں کے تجارتی راستوں کو کاٹ سکتے تھے اور حرمین شریفین کے لیے براہِ راست خطرہ پیدا کر سکتے تھے۔
نور الدین زنگی نے اپنی تزویراتی بصیرت سے کام لیتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ مصر کو ہر قیمت پر صلیبیوں کے قبضے سے بچانا ہے۔ انہوں نے اپنے سب سے قابل اعتماد سپہ سالار اسد الدین شیر کوہ اور ان کے بھتیجے صلاح الدین ایوبی کو اس مہم پر روانہ کیا۔
جنگِ بابین اور فتحِ قاہرہ
یہ مہم کئی برسوں پر محیط تھی جس میں تین بڑی جنگیں ہوئیں۔ 1167ء میں “جنگِ بابین” میں اسد الدین شیر کوہ نے ایک بہت چھوٹی فوج کے ساتھ صلیبیوں اور ان کے اتحادیوں کو عبرت ناک شکست دی۔ اس کے بعد محاصرہِ اسکندریہ میں نوجوان صلاح الدین ایوبی کی دفاعی صلاحیتیں کھل کر سامنے آئیں جب انہوں نے تین ماہ تک شہر کا کامیاب دفاع کیا۔ بالآخر 1169ء میں مصر مکمل طور پر نوری سلطنت کا حصہ بن گیا، جس سے عالمِ اسلام کا جغرافیائی اتحاد مکمل ہوا۔
عدل و انصاف: “دار العدل” کا قیام
سلطان نور الدین زنگی کے دور کو تاریخ میں “عدل و انصاف کا سنہرا دور” کہا جاتا ہے۔ انہوں نے دمشق میں ایک عظیم الشان عمارت “دار العدل” تعمیر کروائی۔ یہ صرف ایک عدالت نہیں تھی بلکہ ایک ایسا ادارہ تھا جہاں مظلوم کو یہ یقین ہوتا تھا کہ اس کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی، چاہے مد مقابل کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔
سلطان خود ہفتے میں دو بار عدالت لگاتے تھے۔ تاریخ دان ابنِ کثیر لکھتے ہیں کہ سلطان کے سامنے امیر اور غریب برابر تھے۔ ایک بار ایک عام سپاہی نے سلطان کے خلاف مقدمہ کر دیا۔ سلطان ایک عام شہری کی طرح قاضی کے سامنے کھڑے ہوئے اور اپنا دفاع پیش کیا۔ جب قاضی نے سلطان کے حق میں فیصلہ دیا، تو سلطان نے اس سپاہی کو معاف کر دیا اور اسے انعام سے نوازا تاکہ مستقبل میں کوئی بھی حق کی آواز اٹھانے سے نہ ڈرے۔
سماجی فلاح اور عوامی منصوبے
سلطان نے عوامی فلاح کے لیے جو اقدامات کیے وہ ان کی رعایا پروری کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے تمام ناجائز ٹیکسوں (مکوس) کا خاتمہ کر دیا جو پچھلے حکمرانوں نے عوام پر لاد رکھے تھے۔ اس سے تجارت میں اضافہ ہوا اور معیشت مستحکم ہوئی۔

بیمارستانِ نوری (ہسپتال)
دمشق کا ہسپتال “بیمارستانِ نوری” اس دور کا ایک جدید ترین طبی مرکز تھا۔ یہاں مریضوں کو مفت کھانا اور دوائیں دی جاتی تھیں۔ یہ ہسپتال نہ صرف علاج کا مرکز تھا بلکہ یہاں طب کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ سلطان کا ماننا تھا کہ ایک صحت مند معاشرہ ہی ایک مضبوط ریاست کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مسافروں کے لیے خانقاہیں اور یتیموں کے لیے الگ تعلیمی ادارے بنائے۔
منبرِ اقصیٰ: ایک خواب کی تعبیر
بیت المقدس کی آزادی نور الدین زنگی کا سب سے بڑا خواب تھا۔ اگرچہ وہ اپنی زندگی میں اسے آزاد نہ کر سکے، لیکن ان کا ایمان اتنا پختہ تھا کہ انہوں نے حلب کے بہترین کاریگروں سے ایک نہایت نفیس اور خوبصورت منبر تیار کروایا۔
انہوں نے فرمایا کہ “میں یہ منبر اس لیے بنوا رہا ہوں تاکہ جب ہم بیت المقدس فتح کریں، تو اسے مسجدِ اقصیٰ میں نصب کیا جائے۔” یہ لکڑی کا ایسا شاہکار تھا جس میں ایک بھی کیل استعمال نہیں کی گئی تھی۔ سلطان کی وفات کے کئی سال بعد، جب صلاح الدین ایوبی نے 1187ء میں بیت المقدس فتح کیا، تو انہوں نے اپنے استاد کی وصیت پوری کی اور وہی منبر مسجدِ اقصیٰ میں رکھا گیا۔
روضہِ رسول ﷺ کا تحفظ اور سیسہ پلائی دیوار
سلطان کی زندگی کا سب سے ایمان افروز واقعہ مدینہ منورہ کا وہ سفر ہے جس میں انہوں نے خواب میں حضور ﷺ کی زیارت کی۔ آپ ﷺ نے دو نیلی آنکھوں والے افراد کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: “اے نور الدین! مجھے ان سے بچاؤ۔”
سلطان مضطرب ہو کر بیدار ہوئے اور چند بااعتماد ساتھیوں کے ساتھ دمشق سے مدینہ روانہ ہوئے۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے تمام اہل مدینہ کی دعوت کی اور ہر شخص کا چہرہ غور سے دیکھا۔ آخر کار انہوں نے ان دو عیسائی جاسوسوں کو پکڑ لیا جو زاہدوں کے روپ میں رہ رہے تھے اور روضہِ رسول ﷺ تک سرنگ کھود رہے تھے۔ سلطان نے اس ناپاک سازش کو ناکام بنایا اور روضہ مبارک کے گرد زمین میں گہری کھدائی کروا کر پگھلا ہوا سیسہ بھروا دیا تاکہ قیامت تک کوئی بدبخت ایسی کوشش نہ کر سکے۔
سلطان کی زاہدانہ زندگی اور سادگی
دنیا کی اتنی بڑی سلطنت کے مالک ہونے کے باوجود سلطان کی زندگی ایک درویش کی سی تھی۔ وہ اکثر پیوند لگے کپڑے پہنتے اور بہت سادہ غذا کھاتے۔ وہ اپنی ذاتی ضروریات کے لیے سرکاری خزانے سے ایک پائی بھی نہیں لیتے تھے۔
ایک بار ان کی اہلیہ نے مالی تنگی کی شکایت کی تو سلطان نے فرمایا: “بیت المال کی رقم قوم کی امانت ہے، میں تمہیں اس میں سے کچھ نہیں دے سکتا۔ میرے پاس حلب میں تین دکانیں میری ذاتی ملکیت ہیں، تم چاہو تو انہیں بیچ کر اپنی ضرورت پوری کر لو، لیکن میں اللہ کو حساب دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔” وہ خود ٹوپیاں سی کر اور قرآن کی خطاطی کر کے اپنی گزر بسر کے لیے رقم کماتے تھے۔
عسکری جدت اور جاسوسی کا نظام
نور الدین زنگی نے اپنی فوج کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ انہوں نے کبوتروں کے ذریعے پیغام رسانی کا ایک ایسا نظام بنایا جو اس وقت کا تیز ترین “مواصلاتی نظام” تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے سرحدی قلعوں کی مرمت کروائی اور نئے قلعے تعمیر کیے تاکہ صلیبیوں کی ہر حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔ ان کا جاسوسی کا نظام اتنا مضبوط تھا کہ دشمن کے کیمپوں کی خبریں چند گھنٹوں میں سلطان تک پہنچ جاتی تھیں۔
آخری ایام اور وفات
1174ء میں یہ عظیم مجاہد اور مصلح اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ سلطان کی وفات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب وہ بیت المقدس پر حتمی حملے کی تیاری کر رہے تھے۔ انہیں دمشق میں ان کے مدرسہ نوریہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔
اگرچہ وہ جسمانی طور پر اس دنیا سے چلے گئے، لیکن وہ جو بیج بو کر گئے تھے، اس نے جلد ہی ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر لی۔ ان کا تیار کردہ فوجی، تعلیمی اور نظریاتی ڈھانچہ ہی تھا جس نے صلیبیوں کو ہمیشہ کے لیے خطے سے نکال باہر کرنے میں مدد دی۔

حاصلِ کلام (نتیجہ)
نور الدین زنگی کی سیرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی حکمرانی تخت پر بیٹھنے کا نام نہیں، بلکہ عدل و انصاف قائم کرنے اور اپنی قوم کی نظریاتی آبیاری کرنے کا نام ہے۔ وہ ایک ایسے فاتح تھے جنہوں نے پہلے اپنے نفس کو فتح کیا، پھر اپنے لوگوں کے دلوں کو، اور آخر میں دشمن کی طاقت کو۔
آج بھی عالمِ اسلام کو اسی کردار، اسی سادگی اور اسی بصیرت کی ضرورت ہے جو نور الدین زنگی کا خاصہ تھی۔ ان کا نام تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ ایک روشن ستارے کی طرح چمکتا رہے گا۔