سلطان سیف الدین قطز: وہ مردِ مجاہد جس نے منگولوں کا غرور خاک میں ملا دیا (قسط اول)

تمہید: جب کائنات خون کے آنسو رو رہی تھی

​تیرہویں صدی عیسوی کا وسط تاریخِ انسانی کا وہ لرزہ خیز دور تھا جسے “فتنہ تاتار” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب وسطی ایشیا سے اٹھنے والے منگولوں کے طوفان نے بڑی بڑی تہذیبوں کو تنکوں کی طرح بہا دیا تھا۔ دیوارِ چین سے لے کر دریائے فرات تک، شاید ہی کوئی ایسی بستی بچی ہو جہاں منگولوں کی سفاکی کے نشان نہ ملتے ہوں۔

​1258ء میں بغداد کی تباہی نے عالمِ اسلام کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔ خلافتِ عباسیہ کا سورج غروب ہو چکا تھا اور مسلمانوں کے ذہنوں پر یہ خوف طاری ہو چکا تھا کہ شاید اب کوئی بھی ان “ناقابلِ شکست” منگولوں کا راستہ نہیں روک سکتا۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ جب ظلم کی رات اپنی انتہا کو پہنچ گئی، تو مصر کی سرزمین سے ایک ایسا سورج طلوع ہوا جس کی تپش نے منگولوں کے غرور کو پگھلا کر رکھ دیا۔ اس عظیم فاتح کا نام سیف الدین قطز تھا۔

باب اول: شہزادے سے غلامی تک کا دردناک سفر

​سلطان سیف الدین قطز کی داستانِ حیات کسی افسانے سے کم نہیں۔ وہ کوئی عام غلام نہیں تھے بلکہ ان کا تعلق شاہی خاندان سے تھا۔

محمود بن ممدود: خوارزم کا آخری شہزادہ

​ان کا اصل نام محمود بن ممدود تھا۔ وہ خوارزم شاہی سلطنت کے مشہور حکمران سلطان علاؤ الدین خوارزم شاہ کے بھانجے تھے۔ ان کے والد ممدود ایک نڈر جرنیل تھے جو منگولوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ محمود کی پرورش شاہی محلات میں ہوئی تھی، جہاں انہیں بہترین تعلیم اور جنگی تربیت دی گئی۔

جب تقدیر نے رخ بدلا

​منگولوں نے جب خوارزم کی اینٹ سے اینٹ بجائی، تو شاہی خاندان بکھر گیا۔ ننھے محمود کو قیدی بنا لیا گیا۔ فاتحین نے ان کے شاہی نسب کو چھپانے کے لیے انہیں غلاموں کی منڈی میں پیش کر دیا۔ جس شہزادے کے سر پر تاج ہونا چاہیے تھا، اسے دمشق کے بازاروں میں ایک معمولی غلام بنا کر بیچا گیا۔

​یہیں سے ان کا نام “قطز” پڑا۔ یہ نام منگولوں نے دیا تھا جس کا مطلب “شکاری کتا” یا “تیز رفتار” تھا۔ حالانکہ یہ نام حقارت میں دیا گیا تھا، لیکن قدرت نے اسی “شکاری” کے ذریعے منگولوں کا شکار کرنا مقصود کر رکھا تھا۔ قطز کو پہلے ایک تاجر نے خریدا، پھر وہ دمشق کے ایک امیر کے پاس رہے، اور آخر کار انہیں مصر کے مملوک سلطان عز الدین ایبک نے خرید لیا۔

باب دوم: مملوک فوج میں عروج اور سیاسی بصیرت

​مصر پہنچنے کے بعد قطز نے اپنی غیر معمولی ذہانت اور جنگی مہارت سے سب کو حیران کر دیا۔ وہ صرف ایک سپاہی نہیں تھے، بلکہ تاریخ، سیاست اور دینی علوم کے ماہر بھی بن چکے تھے۔

سپہ سالار کے عہدے تک رسائی

​سلطان ایبک نے قطز کی وفاداری اور بہادری کو بھانپ لیا تھا، اس لیے انہیں اپنا نائب مقرر کر دیا۔ قطز نے مملوکوں کے اندرونی اختلافات کو ختم کرنے اور فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ جب سلطان ایبک کا انتقال ہوا اور مصر میں سیاسی بحران پیدا ہوا، تو مصر کا تخت ایک کم عمر بچے (نور الدین علی) کے ہاتھ میں تھا۔

نازک گھڑی اور اہم فیصلہ

​یہ وہ وقت تھا جب ہلاکو خان کی فوجیں شام کو روندتے ہوئے مصر کی سرحدوں کے قریب پہنچ رہی تھیں۔ قطز جانتے تھے کہ ایک بچہ منگولوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ 1259ء میں انہوں نے ایک جرات مندانہ فیصلہ کیا اور مصر کے امراء سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

“میں نے یہ اقتدار اپنی ہوس کے لیے نہیں لیا۔ دشمن ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ اس وقت مصر کو ایک ایسے حکمران کی ضرورت ہے جو اپنی تلوار سے اس سیلاب کو روک سکے۔ جب منگولوں کا فتنہ ختم ہو جائے، تو آپ جسے چاہیں اپنا سلطان منتخب کر لینا۔”

​اس خلوص نے تمام مملوک امراء کو قطز کے جھنڈے تلے متحد کر دیا۔

باب سوم: ہلاکو خان کا خط اور ایمان کی حرارت

​ہلاکو خان، جو بغداد کو تباہ کرنے کے بعد خود کو “خدا کا عذاب” سمجھتا تھا، اس نے مصر کے سلطان کو ایک طویل اور دھمکی آمیز خط بھیجا۔ اس خط میں لکھا تھا:

“ہم خدا کی وہ فوج ہیں جو اس کے غضب سے پیدا ہوئی ہے۔ ہم نے شہروں کو اجاڑ دیا، بچوں کو یتیم کر دیا اور دریاؤں کا پانی خون سے بھر دیا۔ تمہارے لیے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں، تمہارے قلعے ریت کی دیوار ثابت ہوں گے۔ اگر تم نے فوراً اطاعت قبول نہ کی تو یاد رکھو، ہم تمہیں بھی اسی طرح کچل دیں گے جیسے ہم نے دوسروں کو کچلا۔”

قطز کا تاریخی جواب

​کسی بھی کمزور دل حکمران کے لیے یہ خط موت کا پروانہ تھا، لیکن قطز کے رگوں میں خوارزم شاہی شہزادوں کا خون تھا۔ انہوں نے نہ صرف اس خط کو مسترد کیا بلکہ منگول سفیروں کو عبرت کا نشان بنا دیا۔ ان کے سر قلم کر کے قاہرہ کے دروازے پر لٹکا دیے گئے۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ مسلمان اب مرنے کے لیے نہیں بلکہ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

باب چہارم: جہاد کی تیاری اور سلطان العلماء کا فتویٰ

​جنگ کی تیاری کے لیے بہت بڑے فنڈز کی ضرورت تھی۔ قطز نے جب ٹیکس لگانے کا ارادہ کیا تو اس وقت کے عظیم عالمِ دین حضرت عز الدین بن عبد السلام (جنہیں سلطان العلماء کہا جاتا ہے) نے ایک تاریخی شرط رکھی۔

​انہوں نے فرمایا: “اے قطز! تم عوام پر اس وقت تک ٹیکس نہیں لگا سکتے جب تک تم خود اور تمہارے امراء اپنے تمام زیورات، ریشمی لباس اور محلوں کی اضافی دولت بیت المال میں جمع نہ کروا دیں۔ جب امراء عام سپاہیوں کی طرح سادہ ہو جائیں گے، تب عوام سے مدد مانگی جائے گی۔”

​سلطان قطز نے اس فتوے کو سر آنکھوں پر رکھا۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنا خزانہ خالی کیا، جس کا اثر یہ ہوا کہ مصر کا بچہ بچہ کٹ مرنے کے لیے تیار ہو گیا۔

(جاری ہے…)

سلطان سیف الدین قطز اور معرکہ عین جالوت (قسط دوم: طوفان سے ٹکرانے کی تیاری)

باب پنجم: ہلاکو خان کی دھمکی اور قاہرہ کا تاریخی منظر

​جب ہلاکو خان کا خط قاہرہ پہنچا، تو شہر میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ اس خط کے الفاظ کاغذ پر روشنائی نہیں بلکہ زہر میں ڈوبے ہوئے لگ رہے تھے۔ منگولوں کی عادت تھی کہ وہ جنگ سے پہلے نفسیاتی طور پر دشمن کو مار دیتے تھے۔

دربارِ سلطانی کا منظر

​سلطان قطز نے تمام امراء اور وزراء کو طلب کیا۔ دربار میں خوف کے سائے صاف نظر آ رہے تھے۔ بعض امراء کا خیال تھا کہ منگولوں کو خراج دے کر صلح کر لینی چاہیے، کیونکہ ان کی نظر میں بغداد کا جو حشر ہوا تھا وہ کافی تھا۔ لیکن سلطان قطز نے اپنی تلوار نکال کر تخت کے سامنے رکھی اور گرج کر کہا:

“اے امراء! اگر تم لوگ بزدلی دکھانا چاہتے ہو تو اپنے گھروں میں بیٹھ جاؤ۔ میں اکیلا جاؤں گا اور تب تک لڑوں گا جب تک میری گردن تن سے جدا نہ ہو جائے۔ کیا تم بھول گئے کہ منگولوں نے ہماری عورتوں اور بچوں کے ساتھ کیا کیا؟ کیا تم ذلت کی زندگی کو شہادت کی موت پر ترجیح دیتے ہو؟”

​سلطان کی اس للکار نے امراء کے سوئے ہوئے ضمیر کو بیدار کر دیا۔ انہوں نے متفقہ طور پر جنگ کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد قطز نے وہ جرات مندانہ قدم اٹھایا جس نے منگولوں کے ناقابلِ شکست ہونے کے طلسم کو توڑ دیا۔ انہوں نے منگول سفیروں کو قتل کروایا، جس کا مطلب یہ تھا کہ اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں (Burn the Boats strategy)۔

باب ششم: معاشی بحران اور سلطان العلماء کا جرات مندانہ فتویٰ

​جنگیں صرف تلواروں سے نہیں بلکہ پیسوں سے بھی لڑی جاتی ہیں۔ مصر اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار تھا۔ خزانہ خالی تھا اور ایک عظیم فوج تیار کرنے کے لیے لاکھوں دینار درکار تھے۔

عوام پر ٹیکس یا امراء کی قربانی؟

​سلطان قطز نے ارادہ کیا کہ عوام پر ٹیکس لگایا جائے، لیکن اس وقت کے عظیم عالم اور فقیہ امام عز الدین بن عبد السلام (سلطان العلماء) آڑے آ گئے۔ انہوں نے دربار میں کھڑے ہو کر وہ بات کہی جو آج کے حکمرانوں کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے:

“اے قطز! جب تک تمہارے امراء کے پاس سونے کے زیورات، ان کی بیگمات کے پاس قیمتی ہار اور تمہارے اصطبلوں میں ریشمی کپڑوں سے ڈھکے گھوڑے موجود ہیں، تم غریب عوام سے ایک کوڑی بھی نہیں لے سکتے۔ پہلے شاہی خزانہ اور امراء کی ذاتی دولت بیت المال میں جمع کرو، اگر پھر بھی کمی رہ گئی تو میں تمہیں عوام پر ٹیکس لگانے کا فتویٰ دوں گا۔”

قطز کی عظمت

​سلطان قطز نے کوئی برا نہیں منایا، بلکہ سب سے پہلے اپنے محل کا سونا اور قیمتی اشیاء بیت المال میں جمع کروا دیں۔ امراء کو بھی ایسا ہی کرنا پڑا۔ یہ تاریخ کا وہ لمحہ تھا جب مصر کی فوج اور عوام ایک ہو گئے۔ جب عوام نے دیکھا کہ ان کا سلطان خود سادگی اختیار کر رہا ہے، تو انہوں نے اپنے گھروں کے چراغ بیچ کر بھی جنگی فنڈ میں حصہ لیا۔

باب ہفتم: خروجِ مصر اور اسٹریٹجک جنگی چالیں

​رمضان المبارک کا مہینہ تھا (658 ہجری)، جب اسلامی لشکر قاہرہ سے نکلا۔ سلطان قطز نے ایک بہت بڑی “انٹیلی جنس” نیٹ ورک قائم کی۔ انہوں نے جاسوس بھیجے تاکہ منگولوں کی نقل و حرکت کا پتہ چل سکے۔

بیبرس کا ہراول دستہ

​سلطان نے اپنے سب سے نڈر جرنیل رکن الدین بیبرس کو ایک چھوٹا لیکن انتہائی طاقتور دستہ دے کر آگے بھیجا۔ بیبرس کا کام یہ تھا کہ وہ منگولوں سے چھوٹی موٹی جھڑپیں کریں اور انہیں یہ تاثر دیں کہ مسلمانوں کی فوج بہت چھوٹی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا دھوکہ (Decoy) تھا جو منگولوں کو عین جالوت کے جال میں پھنسانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

صلیبی قلعہ داروں سے نمٹنا

​فلسطین کی سرزمین پر اس وقت عیسائی صلیبیوں کے مضبوط قلعے موجود تھے۔ سلطان قطز نے عکہ (Acre) کے صلیبی حکمرانوں کو پیغام بھیجا کہ “تمہارے پاس دو راستے ہیں: یا تو ہمارے ساتھ ہو جاؤ، یا پھر غیر جانبدار رہو۔ اگر تم نے منگولوں کا ساتھ دیا تو ہم منگولوں سے پہلے تمہیں ختم کریں گے۔” صلیبیوں نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کو اپنی زمین سے گزرنے کا راستہ دے دیا اور رسد (Supplies) بھی فراہم کی۔ اس طرح قطز نے اپنی پشت (Rear) کو محفوظ کر لیا۔

باب ہشتم: میدانِ عین جالوت کا انتخاب اور جغرافیائی اہمیت

​سلطان قطز نے خود فلسطین کے چپے چپے کا دورہ کیا اور جنگ کے لیے “عین جالوت” (جس کا مطلب ہے جالوت کا چشمہ) کا انتخاب کیا۔

وادی کا نقشہ

​یہ وادی پہاڑیوں کے درمیان گھری ہوئی تھی۔ ایک طرف “جبلِ گلبوا” کی پہاڑیاں تھیں اور دوسری طرف گھنے باغات اور دلدل تھی۔ قطز نے اپنی فوج کے بہترین گھڑ سواروں کو پہاڑیوں کے پیچھے چھپا دیا۔ ان کا منصوبہ یہ تھا کہ منگولوں کو وادی کے اندر بلایا جائے جہاں ان کی گھڑ سوار فوج کی نقل و حرکت محدود ہو جائے۔

منگول جرنیل کتبغا کی بیوقوفی

​دوسری طرف منگول فوج کا سپہ سالار کتبغا، جو ہلاکو خان کا سب سے معتمد جرنیل تھا، اپنی طاقت کے نشے میں چور تھا۔ اسے خبر ملی کہ مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی فوج وادی میں موجود ہے۔ اس نے تکبر میں آ کر اپنے جاسوسوں کی ان رپورٹوں کو نظر انداز کر دیا کہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا لشکر پیچھے چھپا ہوا ہے۔ اس نے سوچا کہ وہ ایک ہی حملے میں مسلمانوں کو ختم کر دے گا۔

سلطان سیف الدین قطز اور معرکہ عین جالوت (قسط سوم: جب تاریخ کا رخ بدل گیا)

باب نہم: 25 رمضان 658ھ — فیصلے کی صبح

​ستمبر 1260ء کی وہ صبح کوئی عام صبح نہیں تھی۔ فلسطین کی وادی “عین جالوت” میں فجر کی نماز کے بعد جب اسلامی لشکر نے صف بندی کی، تو ہر مجاہد کے چہرے پر شہادت کی تمنا تھی۔ سلطان سیف الدین قطز نے اپنی فوج کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ انہوں نے وادی کے اطراف میں موجود پہاڑیوں اور جنگلات کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔

بیبرس کی ابتدائی چال

​سلطان قطز نے سپہ سالار رکن الدین بیبرس کو حکم دیا کہ وہ اپنے ہراول دستے کے ساتھ وادی کے کھلے میدان میں نمودار ہوں۔ منگول جرنیل کتبغا، جو اپنی طاقت کے نشے میں چور تھا، نے جب مسلمانوں کا یہ چھوٹا سا دستہ دیکھا تو اسے لگا کہ فتح اس کے قدم چومنے والی ہے۔ اس نے اپنے تمام گھڑ سواروں کو بیک وقت حملے کا حکم دے دیا۔

​بیبرس نے بڑی مہارت سے جنگ لڑی اور پھر منصوبے کے تحت آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنا شروع کر دیا (Feigned Retreat)۔ منگولوں نے سمجھا کہ مسلمان میدان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں، چنانچہ وہ اندھا دھند ان کے پیچھے وادی کے اندر تک گھس آئے۔

باب دہم: خونی معرکہ اور منگولوں کا پہلا بڑا حملہ

​جیسے ہی منگول فوج وادی کے تنگ حصے میں پہنچی، سلطان قطز نے پہاڑیوں پر چھپے ہوئے اپنے اصلی لشکر کو یلغار کا حکم دیا۔ اچانک چاروں طرف سے ڈھولوں کی آوازیں گونجیں اور “اللہ اکبر” کے نعروں نے وادی کو ہلا کر رکھ دیا۔

جنگ کا پہلا مرحلہ

​منگولوں کو جب احساس ہوا کہ وہ پھنس چکے ہیں، تو انہوں نے وحشیانہ طریقے سے پلٹ کر حملہ کیا۔ منگول گھڑ سواروں کی مہارت عالمی سطح پر مانی جاتی تھی، اور ان کے پہلے ہی منظم حملے نے اسلامی لشکر کے بائیں دستے (Left Wing) کو بری طرح ہلا کر رکھ دیا۔ مسلمان سپاہی دباؤ میں آ کر پیچھے ہٹنے لگے اور ایسا محسوس ہونے لگا کہ تاریخ ایک بار پھر بغداد جیسا خونی منظر دہرانے والی ہے۔

باب یازدہم: “وا اسلاماہ!” — وہ پکار جس نے مردوں میں جان ڈال دی

​جنگ کے اس نازک ترین لمحے میں، جب اسلامی فوج کے قدم اکھڑ رہے تھے، سلطان سیف الدین قطز نے وہ تاریخی عمل کیا جو رہتی دنیا تک جرنیلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔

سلطان کی بے مثال جرات

​سلطان قطز نے دیکھا کہ ان کا لشکر بکھر رہا ہے۔ انہوں نے اپنا بھاری آہنی خود (Helmet) سر سے اتار کر زمین پر دے مارا تاکہ ہر سپاہی اپنے سلطان کا چہرہ دیکھ سکے۔ انہوں نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور ایسی پکار لگائی جو میدانِ جنگ کے شور پر غالب آ گئی:

“وا اسلاماہ! وا اسلاماہ! وا اسلاماہ!”

(اے اسلام کی غیرت! کہاں ہے؟ اے اللہ! اپنے بندے قطز کی مدد فرما!)

​یہ صرف ایک پکار نہیں تھی، بلکہ یہ ایک تڑپ تھی جس نے سپاہیوں کے دلوں میں بجلی بھر دی۔ جب مجاہدین نے دیکھا کہ ان کا سلطان ننگے سر، موت کی پرواہ کیے بغیر دشمن کے لشکر کے بیچوں بیچ گھس گیا ہے، تو ان کے اندر سے موت کا خوف ختم ہو گیا۔ وہ سپاہی جو پیچھے ہٹ رہے تھے، پلٹے اور بھوکے شیروں کی طرح منگولوں پر ٹوٹ پڑے۔

باب دوازدہم: کتبغا کی ہلاکت اور منگولوں کی تاریخ ساز شکست

​منگول جرنیل کتبغا نے جب دیکھا کہ پانسہ پلٹ رہا ہے، تو اس نے اپنی فوج کو جمانے کی آخری کوشش کی۔ لیکن اب دیر ہو چکی تھی۔

کتبغا کا انجام

​سلطان قطز کی قیادت میں مملوک سواروں نے منگولوں کے مرکز (Center) پر ایسا زوردار حملہ کیا کہ ان کی صفیں درہم برہم ہو گئیں۔ اس افراتفری میں کتبغا مارا گیا (کچھ روایات کے مطابق اسے قیدی بنا کر سلطان کے سامنے لایا گیا جہاں اسے اس کے تکبر کی سزا دی گئی)۔ اپنے ناقابلِ شکست جرنیل کی موت دیکھ کر منگول فوج میں بھگڈر مچ گئی۔ وہ منگول جو کبھی پیٹھ نہیں دکھاتے تھے، آج اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے۔

باب سیزدہم: دوسری کوشش اور مکمل خاتمہ

​بھاگتے ہوئے منگولوں نے “بیسان” کے مقام پر دوبارہ جمع ہو کر ایک آخری اور بھرپور حملہ کیا، جو پہلے سے بھی زیادہ شدید تھا۔ سلطان قطز نے ایک بار پھر اپنی فوج کو پکارا: “یا اللہ! اپنے ان بندوں کی مدد فرما جنہوں نے تیری خاطر سر دھڑ کی بازی لگا دی ہے!”

​مسلمانوں نے ایسا جوابی حملہ کیا کہ منگولوں کا نام و نشان مٹ گیا۔ تاریخ لکھتی ہے کہ عین جالوت کے میدان سے لے کر بیسان تک، منگولوں کی لاشوں سے زمین ڈھک گئی تھی۔ یہ تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ منگولوں کی کسی بڑی فوج کو اس طرح مکمل طور پر تباہ کیا گیا ہو۔

باب چہارم: فتح کے اثرات — اسلام کا نیا جنم

​عین جالوت کی فتح صرف ایک جنگ کی جیت نہیں تھی، بلکہ یہ عالمِ اسلام کی بقا کا مسئلہ تھا۔

  1. منگولوں کا خوف ختم: اس فتح نے دنیا کو بتایا کہ منگول “خدا کا ناقابلِ شکست عذاب” نہیں ہیں بلکہ انہیں بھی شکست دی جا سکتی ہے۔
  2. مصر اور حجاز کا تحفظ: اگر قطز یہ جنگ ہار جاتے، تو منگول مکہ اور مدینہ تک پہنچ جاتے اور شاید تاریخ میں اسلام کا مرکز ہی ختم ہو جاتا۔
  3. مملوک سلطنت کا عروج: اس فتح کے بعد مملوک سلطنت عالمِ اسلام کی سب سے طاقتور محافظ بن کر ابھری۔

سلطان سیف الدین قطز اور معرکہ عین جالوت (قسط چہارم: فتحِ عظیم اور شہادت کا کرب)

باب پانزدہم: فتح کے بعد کا منظر اور دمشق میں فاتحانہ داخلہ

​عین جالوت کے میدان میں منگولوں کی لاشوں کے ڈھیر اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ ظلم کی رات ختم ہو چکی ہے۔ جب جنگ ختم ہوئی، تو سلطان سیف الدین قطز گھوڑے سے اترے، زمین پر سجدہ ریز ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے ایک نا ممکن کام کو ممکن بنا دیا۔

شام کی آزادی

​عین جالوت کی فتح صرف ایک میدان کی جیت نہیں تھی، بلکہ یہ پورے خطے کی آزادی کا پروانہ تھا۔ سلطان قطز نے بغیر وقت ضائع کیے اپنی فوج کو شام (Syria) کی طرف بڑھنے کا حکم دیا۔ منگول جو کبھی حاکم بن کر دمشق کی گلیوں میں گھومتے تھے، اب وہاں سے جانیں بچا کر بھاگ رہے تھے۔ جب سلطان قطز دمشق میں داخل ہوئے، تو عوام نے ان کا استقبال “فاتحِ اعظم” کے طور پر کیا۔ گلیوں میں پھول نچھاور کیے گئے اور مساجد میں شکرانے کے نوافل ادا کیے گئے۔

باب شانزدہم: خوشی کے سائے میں چھپا ہوا غم

​تاریخِ انسانی کا یہ ایک بڑا المیہ ہے کہ بڑے معرکوں کے بعد اکثر سیاسی اختلافات جنم لیتے ہیں۔ سلطان قطز اور ان کے سب سے بڑے سپہ سالار رکن الدین بیبرس کے درمیان بعض انتظامی معاملات پر اختلافات پیدا ہو گئے۔ بیبرس، جنہوں نے عین جالوت میں اپنی جان کی بازی لگائی تھی، حلب (Aleppo) کی گورنری چاہتے تھے، لیکن سلطان قطز نے بعض مصلحتوں کی بنا پر اس فیصلے کو موخر کر دیا۔

مصر واپسی کا سفر

​جب اسلامی لشکر فتح کا پرچم لہراتا ہوا شام سے مصر کی طرف واپس جا رہا تھا، تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ جس سلطان نے ابھی منگولوں کے طوفان کو روکا ہے، اس کی زندگی کے چراغ گل ہونے والے ہیں۔

باب ہفدہم: سلطان کی شہادت کا المناک واقعہ

​قاہرہ پہنچنے سے چند دن پہلے، جب لشکر نے “صالحیہ” کے مقام پر پڑاؤ ڈالا، تو تقدیر نے اپنا آخری مہرہ کھیلا۔ 24 اکتوبر 1260ء کی تاریخ تھی۔ سلطان قطز اپنے خیمے کے قریب چند امراء کے ساتھ موجود تھے۔

وہ آخری لمحہ

​روایات کے مطابق، رکن الدین بیبرس اور چند دیگر مملوک امراء نے ایک سازش کے تحت سلطان پر حملہ کر دیا۔ سلطان قطز، جو میدانِ جنگ میں ہزاروں تلواروں کے درمیان محفوظ رہے تھے، اپنے ہی ساتھیوں کی تلواروں کا شکار ہو گئے۔ جب وہ زخمی ہو کر گرے، تو ان کے آخری الفاظ وہی تھے جو ان کی پوری زندگی کا حاصل تھے: “یا اللہ! میں نے یہ سب تیرے لیے کیا، مجھے اپنی رحمت میں جگہ دے۔”

​سلطان قطز کی شہادت نے خوشی کے ماحول کو سوگ میں بدل دیا۔ وہ شخص جس نے اسلام کو ایک بہت بڑی تباہی سے بچایا تھا، وہ اپنی فتح کا جشن مکمل طور پر دیکھنے کے لیے زندہ نہ رہا۔

باب ہژدہم: سلطان قطز کی میراث اور مقام

​اگرچہ سلطان قطز کی حکومت صرف ایک سال کے قریب رہی، لیکن انہوں نے وہ کام کر دکھایا جو صدیوں تک یاد رکھا جائے گا۔

  1. بقائے اسلام: اگر قطز عین جالوت میں نہ جیتتے، تو آج شاید اسلامی تہذیب کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔ انہوں نے مکہ، مدینہ اور قدس کو منگولوں کی پامالی سے بچایا۔
  2. مملوکوں کا وقار: انہوں نے ثابت کیا کہ غلامی کی زنجیریں پہننے والے بھی اگر ایمان کی طاقت سے لیس ہوں، تو دنیا کے بڑے بڑے جابروں کو جھکا سکتے ہیں۔
  3. سادگی اور عدل: انہوں نے سلطان العلماء کے فتوے پر عمل کر کے ثابت کیا کہ ایک حقیقی حکمران وہی ہے جو پہلے خود قربانی دیتا ہے، پھر رعایا سے مانگتا ہے۔

رکن الدین بیبرس کا دور

​سلطان قطز کے بعد رکن الدین بیبرس مصر کے سلطان بنے۔ اگرچہ ان پر قطز کے خون کا الزام تھا، لیکن انہوں نے قطز کے ادھورے مشن کو آگے بڑھایا اور صلیبیوں و منگولوں کے خلاف اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔

اختتامیہ: Sipahihistory.com کے قارئین کے لیے

​سلطان سیف الدین قطز کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب امتِ مسلمہ انتشار کا شکار ہوتی ہے، تو اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی “قطز” کو کھڑا کر دیتا ہے جو بکھرے ہوئے لوگوں کو متحد کر دیتا ہے۔ آج بھی اگر مسلمان اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور “وا اسلاماہ” کی حقیقی تڑپ پیدا کر لیں، تو دنیا کا کوئی بھی فتنہ ان کا راستہ نہیں روک سکتا۔

تمت بالخیر

Leave a Comment