قسط چہارم: نور الدین زنگی — وہ شخص جو تاریخ نے بھلا دیا

​تمہید: ایک جامع ریاست کی تشکیل

​پچھلی اقساط میں ہم نے سلطان کی عسکری فتوحات اور مصر کے الحاق کا ذکر کیا۔ لیکن ایک عظیم ریاست صرف تلوار کے زور پر قائم نہیں رہ سکتی۔ نور الدین زنگیؒ کا اصل کمال یہ تھا کہ انہوں نے ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھی جہاں قانون کی حکمرانی تھی اور جہاں علم کو ریاست کی طاقت بنایا گیا تھا۔

​اس چوتھی قسط میں ہم سلطان کی زندگی کے ان پہلوؤں کا احاطہ کریں گے جو عام طور پر تاریخ کی کتابوں میں دب کر رہ گئے ہیں۔ ہم دیکھیں گے کہ سلطان نے کس طرح ایک عام شہری کو طاقتور ترین امیر کے برابر لا کھڑا کیا اور کس طرح انہوں نے صلیبیوں کے خلاف ایک ایسی “خفیہ جنگ” لڑی جس نے دشمن کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دیا۔

​عدل و انصاف کا ادارہ: “دار العدل” کی گہرائی

​نور الدین زنگی کا سب سے بڑا اعزاز “العادل” (انصاف کرنے والا) تھا۔ انہوں نے دمشق میں دار العدل قائم کیا، جو کہ اس وقت کی دنیا میں انسانی حقوق کی فراہمی کا سب سے بڑا مرکز تھا۔

​قانون کی بالادستی

​اس ادارے کی خاص بات یہ تھی کہ یہاں سلطان خود قاضی کے سامنے ایک عام سائل کی طرح پیش ہوتے تھے۔ تاریخ دان ابنِ کثیر لکھتے ہیں کہ سلطان نے حکم دے رکھا تھا کہ “اگر کسی غریب کا حق کسی امیر یا خود میرے خاندان کے کسی فرد نے مارا ہے، تو وہ بلا خوف و خطر دار العدل آئے۔”

​ایک مرتبہ سلطان کے ایک قریبی امیر پر کسی شہری نے دعویٰ کیا، سلطان نے نہ صرف اس امیر کو عدالت میں طلب کیا بلکہ خود بھی وہاں موجود رہے تاکہ قاضی کسی دباؤ کا شکار نہ ہو۔ جب جرم ثابت ہوا تو سلطان نے اپنے قریبی ساتھی کو سزا دلوائی۔ اس عدل کا نتیجہ یہ تھا کہ ان کی سلطنت میں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی اور لوگ راتوں کو بے خوف و خطر سفر کرتے تھے۔

​علمی محاذ: سلطان کے دور کے ستارے (علماء و فقہاء)

​نور الدین زنگی جانتے تھے کہ کسی بھی قوم کی نظریاتی آبیاری کے لیے عظیم دماغوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی سلطنت میں دنیا بھر سے علماء کو جمع کیا۔

​حافظ ابنِ عساکر اور ان کا کردار

​مشہور مورخ اور محدث ابنِ عساکرؒ، جنہوں نے “تاریخِ دمشق” لکھی، سلطان کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔ سلطان نے ان کے لیے الگ سے مدرسہ قائم کیا اور انہیں سرکاری سرپرستی فراہم کی۔ ان علماء کا کام صرف پڑھانا نہیں تھا، بلکہ وہ عوام میں جذبہِ جہاد پیدا کرتے تھے اور صلیبیوں کے پھیلائے ہوئے ذہنی شکوک و شبہات کا جواب دیتے تھے۔

​سلطان نے قطب الدین نیشاپوریؒ جیسے فقہاء کو مدارس کا نگران بنایا تاکہ تعلیمی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔ یہ علمی ماحول ہی تھا جس نے اسلامی معاشرے کو دوبارہ سے تخلیقی اور فکری طور پر زندہ کر دیا۔

​انٹیلی جنس کی جنگ: سلطان کا جاسوسی نظام

​صلیبی ریاستیں اس وقت جدید جاسوسی اور تخریب کاری میں ماہر سمجھی جاتی تھیں۔ نور الدین زنگی نے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک بے مثال “خفیہ سروس” تیار کی۔

​کبوتروں کے ذریعے پیغام رسانی

​سلطان نے تاریخ میں پہلی بار سرکاری سطح پر کبوتروں کے ذریعے پیغام رسانی کا باقاعدہ محکمہ بنایا۔ حلب، دمشق، قاہرہ اور سرحدوں کے درمیان کبوتروں کے لیے خاص “سٹیشن” بنائے گئے تھے۔ اس نظام کی بدولت دشمن کی نقل و حرکت کی خبر سلطان تک منٹوں اور گھنٹوں میں پہنچ جاتی تھی، جبکہ دشمن کو پتہ بھی نہیں چلتا تھا۔

​خفیہ ایجنٹ اور بھیس بدلنا

​سلطان کے جاسوس صلیبیوں کے کیمپوں میں تاجروں، پادریوں اور راہبوں کے روپ میں موجود ہوتے تھے۔ وہ صلیبیوں کے اندرونی اختلافات اور ان کے حملے کے منصوبوں کی خبریں پہلے ہی نکال لیتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ صلیبیوں کی کئی بڑی مہمات شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام ہو گئیں کیونکہ سلطان نے ان کے راستوں میں پہلے ہی جال بچھا رکھے ہوتے تھے۔

​روضہِ رسول ﷺ کے واقعے کے بعد کی اصلاحات

​مدینہ منورہ میں صلیبی سازش کو ناکام بنانے کے بعد، سلطان نے محسوس کیا کہ حرمین شریفین کا دفاع صرف سیسہ پلائی دیوار سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے مستقل پہرے داری کی ضرورت ہے۔

​انہوں نے مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے راستوں پر قلعے بنائے اور شام سے خاص طور پر ایک محافظ دستہ وہاں روانہ کیا جو حاجیوں کی حفاظت پر مامور تھا۔ انہوں نے حاجیوں پر لگنے والے تمام ٹیکس ختم کر دیے اور ان کے لیے سرائیں اور کنویں تعمیر کروائے۔ سلطان کا یہ عمل ان کے عشقِ رسول ﷺ اور عالمِ اسلام کی مرکزیت کے تحفظ کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

​معاشی استحکام: بیت المال اور عوامی ٹیکس

​نور الدین زنگی نے اپنی سلطنت کی معیشت کو “اسلامی اصولوں” پر استوار کیا۔ انہوں نے غیر شرعی ٹیکسوں کا مکمل خاتمہ کر دیا، جس کے بارے میں ان کے وزراء نے کہا تھا کہ اس سے آمدنی کم ہو جائے گی۔ لیکن سلطان نے اللہ پر بھروسہ کیا، اور نتیجہ یہ نکلا کہ تجارت میں اتنی برکت ہوئی کہ بیت المال مال و دولت سے بھر گیا۔

​وہ خود اپنی بیوی کے لیے بھی بیت المال سے رقم نہیں لیتے تھے۔ تاریخ میں درج ہے کہ ان کا ذاتی خرچہ صرف ان کی ان تین دکانوں سے آتا تھا جو انہوں نے حلب میں خریدی تھیں۔ ان کی سادگی کا یہ عالم تھا کہ وہ پیوند لگے کپڑے پہن کر فاتح کی حیثیت سے شہروں میں داخل ہوتے تھے۔

​سلطان کی روحانیت اور تصوف

​بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ نور الدین زنگی ایک گہرے صوفی منش انسان بھی تھے۔ وہ راتوں کو اٹھ کر روتے اور اللہ سے اپنی مغفرت مانگتے۔ وہ صوفیاء کی بہت عزت کرتے تھے اور ان کی خانقاہوں کے لیے بڑے وظائف مقرر کیے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ میدانِ جنگ کی فتح دراصل ان درویشوں کی دعاؤں کا ثمر ہے جو راتوں کو اللہ کے سامنے گڑگڑاتے ہیں۔

​ایک بار ایک صوفی نے انہیں نصیحت کی کہ “اے سلطان! آپ اپنی نیند کم کریں اور امت کی فکر زیادہ۔” سلطان نے جواب دیا: “خدا کی قسم! میں جب تک بیت المقدس کو آزاد نہ دیکھ لوں، میری آنکھوں میں نیند نہیں آ سکتی۔”

​اختتامِ قسط: آخری مرحلے کی تیاری

​1170ء تک نور الدین زنگی ایک ایسی ریاست بنا چکے تھے جو اندرونی طور پر مضبوط، معاشی طور پر مستحکم اور علمی طور پر روشن خیال تھی۔ اب ان کی نظریں صرف ایک ہی نقطے پر تھیں: بیت المقدس پر فیصلہ کن حملہ۔

​لیکن تقدیر نے کچھ اور ہی لکھا تھا۔ کیا سلطان اپنی زندگی میں مسجدِ اقصیٰ میں نماز پڑھ سکے؟ مصر اور شام کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیاں کیا رنگ لائیں؟ اور سلطان کی وفات کے وقت ان کے آخری کلمات کیا تھے؟ یہ سب ہم جانیں گے اس سلسلے کی آخری اور پانچویں قسط میں۔

سلطان کی آخری وصیت اور روحانی کیفیت

​سلطان نور الدین زنگیؒ اپنی وفات سے چند دن پہلے شدید اضطراب میں تھے، لیکن یہ اضطراب اپنی جان کے لیے نہیں بلکہ امت کے اس اتحاد کے لیے تھا جو انہوں نے برسوں کی محنت سے قائم کیا تھا۔ انہوں نے اپنے قریبی ساتھیوں اور جرنیلوں کو بلا کر نصیحت کی کہ: “میرے بعد آپس میں نہ لڑنا، کیونکہ تمہارا اختلاف دشمن کو دوبارہ بیت المقدس پر حاوی کر دے گا۔” ان کی آخری راتیں تلاوتِ قرآن اور گریہ و زاری میں گزریں۔ تاریخ دان بتاتے ہیں کہ سلطان وفات سے قبل بار بار یہ دعا مانگتے تھے کہ “اے اللہ! اگر میری زندگی میں قدس کی فتح نہیں لکھی، تو میرے بعد کسی ایسے شخص کو کھڑا کر دے جو تیرے اس گھر کو آزاد کرائے۔” ان کی یہ دعا صلاح الدین ایوبی کی صورت میں قبول ہوئی، جنہوں نے سلطان کے مشن کو ادھورا نہیں چھوڑا۔

​عالمِ اسلام پر وفات کے اثرات اور دشمن کا ردِعمل

​جب دمشق کے میناروں سے سلطان کی وفات کا اعلان ہوا، تو پورے شہر میں ایک کہرام مچ گیا۔ بازار بند ہو گئے اور لوگ دیوانہ وار سڑکوں پر نکل آئے۔ سلطان کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ عیسائی مورخین بھی یہ لکھنے پر مجبور ہوئے کہ “آج مسلمانوں کا وہ بادشاہ مر گیا ہے جس کے رعب سے ہمارے قلعوں کی دیواریں لرزتی تھیں، لیکن وہ اپنے پیچھے ایک ایسا نظام چھوڑ گیا ہے جسے مٹانا اب ممکن نہیں”۔

​صلیبی بادشاہ “ایمالرک” (Amalric I) نے سلطان کی وفات کی خبر سن کر اپنی فوج کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا، کیونکہ اسے معلوم تھا کہ نور الدین زنگی نے ایسی نسل تیار کر دی ہے جو اب کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ یہ سلطان کا وہ رعب تھا جو ان کے مرنے کے بعد بھی دشمن کے دلوں پر طاری رہا۔

​معمارِ قدس: ایک تاریخی تجزیہ

​اگر ہم تاریخ کا گہرا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ نور الدین زنگیؒ “معمارِ قدس” تھے۔ انہوں نے صرف جنگیں نہیں لڑیں بلکہ ایک پورا سماجی ڈھانچہ تیار کیا۔ ان کے دور میں شام اور مصر کے درمیان جو تجارتی اور علمی روابط قائم ہوئے، اس نے مسلمانوں کو معاشی طور پر اتنا مضبوط کر دیا کہ وہ طویل جنگوں کے اخراجات برداشت کر سکیں۔

​سلطان نے اپنے دور میں جو بحری بیڑا (Navy) تیار کیا، اس نے پہلی بار بحیرہ روم میں صلیبیوں کی بالادستی کو چیلنج کیا۔ انہوں نے اسکندریہ اور دمیاط کے ساحلوں پر ایسی قلعہ بندی کی کہ دشمن کے بحری جہازوں کے لیے مصر پر حملہ کرنا ناممکن ہو گیا۔ یہ تمام اقدامات اس دور اندیشی کا نتیجہ تھے جو صرف ایک عظیم لیڈر میں ہو سکتی ہے۔

​سلطان کی شخصیت کے روشن پہلو (سادگی اور امانت)

​سلطان کی زندگی کا ایک پہلو ان کی بے مثال امانت داری تھی۔ ایک بار ان کے وزیر نے مشورہ دیا کہ سلطان کو اپنے لیے ایک عالیشان محل تعمیر کروانا چاہیے تاکہ غیر ملکی سفیر ان کی طاقت سے مرعوب ہوں۔ سلطان نے مسکرا کر جواب دیا: “محلوں سے نہیں، کردار سے رعب پیدا ہوتا ہے۔ اللہ نے مجھے مسلمانوں کے مال کا چوکیدار بنایا ہے، عیش کرنے والا بادشاہ نہیں۔”

​ان کی زندگی میں ایک بھی ایسا واقعہ نہیں ملتا جہاں انہوں نے اپنی ذات کو ترجیح دی ہو۔ وہ میدانِ جنگ میں ایک عام سپاہی کی طرح زمین پر سوتے اور وہی کھانا کھاتے جو ان کے لشکر کو میسر ہوتا۔ ان کی یہی سادگی تھی جس نے صلاح الدین ایوبی جیسے عظیم انسان کو ان کا گرویدہ بنا دیا تھا۔

​اختتامی پیغام: Sipahi History کے قارئین کے لیے

​نور الدین زنگیؒ کی داستانِ حیات محض ایک قصہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک راستہ ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ ذلت کے اندھیروں سے عزت کی روشنی تک کیسے پہنچا جاتا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ جب ایک حکمران اللہ کے سامنے جھک جاتا ہے، تو پوری دنیا اس کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

​آج جب ہم مسجدِ اقصیٰ کے سامنے کھڑے ہو کر ان کی تاریخ پڑھتے ہیں، تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ نور الدین زنگی آج بھی زندہ ہیں۔ وہ اپنے مدارس میں زندہ ہیں، وہ انٹیلی جنس اور عدل کے ان اصولوں میں زندہ ہیں جو انہوں نے وضع کیے، اور وہ ہر اس مجاہد کے جذبے میں زندہ ہیں جو حق کی خاطر آواز بلند کرتا ہے۔

Leave a Comment