قسط پنجم: سلطان صلاح الدین ایوبی — تیسری صلیبی جنگ اور رچرڈ شیر دل سے ٹکراؤ

​تمہید: جب پورا یورپ سمٹ آیا

​بیت المقدس کی فتح (1187ء) نے عالمِ اسلام میں خوشی کی لہر دوڑا دی تھی، لیکن دوسری طرف یورپ کے کلیساؤں میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ عیسائی دنیا کے لیے قدس کا چھن جانا ایک ایسا زخم تھا جسے وہ برداشت نہ کر سکے۔ پوپ نے “تیسری صلیبی جنگ” کا اعلان کیا، جس میں انگلستان کا بادشاہ رچرڈ شیر دل (Richard the Lionheart)، فرانس کا بادشاہ فلپ اور جرمنی کا شہنشاہ فریڈرک باربروسہ اپنی پوری عسکری طاقت کے ساتھ نکلے۔ یہ تاریخ کی سب سے بڑی صلیبی مہم تھی، جس کا واحد مقصد صلاح الدین ایوبی کی طاقت کو کچلنا اور قدس کو دوبارہ حاصل کرنا تھا۔

​عکہ کا محاصرہ اور سلطان کی بے چینی

​اس جنگ کا سب سے بڑا معرکہ ساحلی شہر عکہ (Acre) میں سجا۔ صلیبیوں نے دو سال تک اس شہر کا محاصرہ کیے رکھا۔ سلطان صلاح الدین شہر کے باہر سے صلیبیوں پر حملے کرتے رہے تاکہ محصور مسلمانوں کو بچایا جا سکے۔ یہ سلطان کی زندگی کا کٹھن ترین وقت تھا، کیونکہ ان کی صحت بگڑ رہی تھی اور اپنوں کی امداد میں بھی کمی آ رہی تھی۔

​بالآخر، 1191ء میں عکہ صلیبیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ رچرڈ شیر دل نے یہاں جس سفاکی کا مظاہرہ کیا وہ تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ اس نے تقریباً 3000 مسلمان قیدیوں کو، جن میں عورتیں اور بچے بھی تھے، سلطان کے سامنے ذبح کروا دیا۔ رچرڈ کی اس درندگی نے سلطان کے دل کو زخمی کر دیا، لیکن انہوں نے انتقام میں اندھا ہو کر معصوم عیسائیوں کو نقصان نہیں پہنچایا۔

​رچرڈ شیر دل اور صلاح الدین: دو عظیم سورما

​تاریخ میں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ دو جانی دشمن ایک دوسرے کی عزت کریں۔ رچرڈ اور صلاح الدین کے درمیان میدانِ جنگ میں کئی مقابلے ہوئے، جن میں سب سے مشہور معرکہِ ارسوف ہے۔ اگرچہ رچرڈ ایک بہترین جنگجو تھا اور اس نے کچھ ساحلی شہر واپس لے لیے، لیکن وہ بیت المقدس کی طرف بڑھنے سے قاصر رہا۔

​ان دونوں کے درمیان لڑائیوں سے زیادہ ان کے قصے مشہور ہوئے۔ جب رچرڈ بیمار ہوا اور اسے تپِ لرزہ (بخار) ہوا، تو سلطان صلاح الدین نے اسے دشمن نہیں بلکہ ایک بیمار انسان سمجھا۔ سلطان نے اپنے شاہی طبیب، برف اور تازہ پھل (ناشپاتی اور انگور) رچرڈ کو بھیجے تاکہ وہ صحت یاب ہو سکے۔ جب رچرڈ کا گھوڑا جنگ میں مارا گیا، تو سلطان نے اسے دو بہترین عربی گھوڑے تحفے میں بھیجے، یہ کہہ کر کہ: “اتنے بڑے بادشاہ کو پیدل لڑنا زیب نہیں دیتا”۔

​صلیبیوں کی ناکامی اور قدس کا دفاع

​رچرڈ شیر دل نے کئی بار بیت المقدس پر قبضے کی کوشش کی، لیکن سلطان کی دفاعی حکمتِ عملی اتنی مضبوط تھی کہ رچرڈ شہر کی دیواروں تک نہ پہنچ سکا۔ ایک بار جب رچرڈ شہر کے قریب پہنچا، تو اس نے اپنی ڈھال سے اپنا چہرہ چھپا لیا اور کہا: “اے خدا! مجھے وہ شہر نہ دکھا جسے میں فتح نہ کر سکا”۔

​رچرڈ کو احساس ہو گیا کہ جب تک صلاح الدین زندہ ہے، قدس کو لینا ناممکن ہے۔ دوسری طرف یورپ میں رچرڈ کے خلاف سازشیں ہو رہی تھیں، اس لیے وہ صلح کرنے پر مجبور ہو گیا۔

​صلحِ رملہ: ایک تاریخی معاہدہ (1192ء)

​بالآخر ستمبر 1192ء میں دونوں کے درمیان “معاہدہِ رملہ” طے پایا۔ اس معاہدے کی اہم شرائط یہ تھیں:

  1. ​بیت المقدس مسلمانوں کے پاس ہی رہے گا۔
  2. ​عیسائی زائرین کو بغیر کسی خوف و خطر اور ٹیکس کے قدس کی زیارت کی اجازت ہوگی۔
  3. ​ساحل کے کچھ علاقے صلیبیوں کے پاس رہیں گے۔

​اس معاہدے نے ثابت کر دیا کہ صلاح الدین ایوبی نے صلیبیوں کے اس طوفان کو روک دیا جو پورے عالمِ اسلام کو بہا لے جانے کے لیے آیا تھا۔ رچرڈ نے واپس جاتے ہوئے سلطان کو پیغام بھیجا: “میں تین سال بعد دوبارہ آؤں گا اور قدس فتح کروں گا”۔ سلطان نے مسکرا کر جواب دیا: “اگر میں نے قدس کسی کے ہاتھوں کھونا ہی ہے، تو وہ تمہارے جیسا بہادر بادشاہ ہونا چاہیے”۔ (مگر رچرڈ کبھی واپس نہ آ سکا)۔

​سلطان کی آخری وصیت اور زہد و قناعت

​جنگوں کے خاتمے کے بعد سلطان دمشق واپس آ گئے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد پورا کر لیا تھا۔ ان کی صحت تیزی سے گرنے لگی۔ وفات سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی: “بیٹا! کبھی ناحق خون نہ بہانا، کیونکہ خون کبھی سوتا نہیں ہے۔ رعایا کے دل جیتو، کیونکہ حکمرانی صرف اسی صورت میں قائم رہتی ہے جب عوام خوش ہوں”۔

​سلطان صلاح الدین کے زہد کا یہ عالم تھا کہ جب 4 مارچ 1193ء کو ان کا انتقال ہوا، تو ان کے پاس اتنی رقم بھی نہ تھی کہ ان کے کفن دفن کا انتظام کیا جا سکے۔ ان کے خزانے میں صرف ایک سونے کا سکہ اور 47 چاندی کے سکے ملے تھے۔ جس بادشاہ نے آدھی دنیا پر حکومت کی، اس نے اپنے پیچھے نہ کوئی جاگیر چھوڑی، نہ محل اور نہ کوئی باغات۔ ان کا کل اثاثہ وہ تلوار تھی جس سے انہوں نے دینِ اسلام کا دفاع کیا تھا۔

​سلطان کی وفات پر عالمِ اسلام کا سوگ

​سلطان کی وفات کی خبر جب دمشق کی گلیوں میں پھیلی، تو کہرام مچ گیا۔ لوگ دیوانہ وار باہر نکل آئے۔ عیسائی مورخین لکھتے ہیں کہ سلطان کی وفات پر صرف مسلمان ہی نہیں، بلکہ عیسائی اور یہودی بھی رو رہے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اب دنیا سے عدل و انصاف کا پیکر اٹھ گیا ہے۔ انہیں دمشق میں مدرسہِ عزیزیہ کے قریب دفن کیا گیا، جہاں ان کا مزار آج بھی مرجعِ خلائق ہے۔

​تاریخ پر سلطان کے اثرات

​سلطان صلاح الدین ایوبی صرف ایک فاتح نہیں تھے، بلکہ وہ ایک تحریک کا نام تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کو یہ یقین دلایا کہ اگر وہ متحد ہو جائیں اور اپنے کردار کو بلند کر لیں، تو وہ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کو شکست دے سکتے ہیں۔ ان کی رواداری اور اخلاق نے یورپ کے تاریک دور میں روشنی پھیلائی، اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی مغربی دنیا میں انہیں ایک “ہیرو” کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

​خلاصہِ قسط

​قسط پنجم ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اقتدار کا اصل مقصد مال و دولت جمع کرنا نہیں، بلکہ حق کی سربلندی اور انسانیت کی خدمت ہے۔ سلطان نے تیسری صلیبی جنگ کے طوفان کے سامنے چٹان بن کر مسجدِ اقصیٰ کی حفاظت کی اور اپنے کردار سے ثابت کیا کہ مسلمان فاتح بن کر بھی رحم دل ہوتا ہے۔

اگلی قسط (آخری قسط) میں پڑھیے: سلطان صلاح الدین ایوبی کی میراث، ان کے خاندان (ایوبی دور) کا عروج و زوال، اور وہ اہم سبق جو آج کے مسلمانوں کے لیے ان کی زندگی میں پوشیدہ ہیں۔

Leave a Comment