قسط ششم (آخری): سلطان صلاح الدین ایوبی — ایک عظیم میراث اور تاریخ کا پیغام

​تمہید: سورج غروب ہوا مگر روشنی باقی ہے

​ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے، لیکن کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی جسمانی موت دراصل ان کی ابدی زندگی کا آغاز ہوتی ہے۔ پچھلی پانچ اقساط میں ہم نے سلطان صلاح الدین ایوبی کی پیدائش سے لے کر بیت المقدس کی فتح اور یورپ کے متحدہ لشکروں کے خلاف ان کی جدوجہد کا تفصیلی ذکر کیا۔ اس آخری قسط میں ہم جائزہ لیں گے کہ سلطان نے اپنے پیچھے کیا چھوڑا؟ ان کی میراث کیا تھی؟ اور ان کی وفات کے بعد ایوبی سلطنت اور عالمِ اسلام پر کیا گزری؟

​وفات کے بعد کا منظر: ایک درویش بادشاہ کا ترکہ

​جب 4 مارچ 1193ء کو دمشق میں سلطان کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی، تو پورے شہر میں ایسا سناٹا چھا گیا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ سلطان کے قریبی رفیق اور سوانح نگار بہاء الدین شداد لکھتے ہیں کہ جب سلطان کے ترکے کی تلاشی لی گئی تو لوگ یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ اتنی بڑی سلطنت کے مالک کے پاس کفن کے پیسے بھی نہیں تھے۔

​ان کے کل اثاثے میں ایک سونے کا سکہ اور چند چاندی کے سکے نکلے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں جو کچھ کمایا، وہ اللہ کی راہ میں، مساکین کی مدد اور جہاد کی تیاری میں صرف کر دیا۔ ان کی وصیت کے مطابق ان کی پسندیدہ تلوار ان کے ساتھ قبر میں رکھی گئی تاکہ روزِ قیامت وہ اللہ کے حضور گواہی دے سکے کہ اس بندے نے اپنی طاقت صرف حق کے دفاع میں استعمال کی۔

​ایوبی سلطنت کا عروج و زوال

​سلطان کی وفات کے بعد ان کی سلطنت ان کے بیٹوں اور بھائیوں میں تقسیم ہو گئی۔ اگرچہ ان کے جانشینوں نے کچھ عرصے تک ان کے مشن کو جاری رکھا، لیکن آہستہ آہستہ داخلی اختلافات نے سلطنت کو کمزور کر دیا۔

  1. الملک العادل: سلطان کے بھائی نے اقتدار سنبھالا اور ایک طویل عرصے تک صلیبیوں کے خلاف دفاعی جنگ لڑی۔
  2. مملوکوں کا عروج: ایوبی دور کے آخری سالوں میں ان کے وفادار غلاموں (مملوکوں) نے طاقت پکڑی اور بالآخر 1250ء میں ایوبی سلطنت کی جگہ “مملوک سلطنت” قائم ہوئی۔ ان مملوکوں نے ہی آگے چل کر منگولوں کے طوفان کو روکا، جس کی بنیاد کہیں نہ کہیں صلاح الدین ایوبی کی عسکری اصلاحات میں رکھی گئی تھی۔

​صلاح الدین ایوبی: دشمنوں کی نظر میں

​تاریخ میں بہت کم ایسے فاتح گزرے ہیں جن کی تعریف ان کے دشمنوں نے بھی کی۔ صلیبی مورخین، جو مسلمانوں کو اپنا بدترین دشمن سمجھتے تھے، صلاح الدین کے بارے میں لکھتے ہوئے اپنے قلم کی نوک کو ادب سے جھکاتے ہیں۔

  • رچرڈ شیر دل نے کہا تھا کہ: “اگر زمین پر کوئی ایسا دشمن ہے جس سے لڑنا فخر کی بات ہو، تو وہ صلاح الدین ہے”۔
  • فرانسیسی مورخین انہیں “شائستگی اور عفو و درگزر کا پیکر” قرار دیتے ہیں۔
  • ​یورپ کے چرچوں میں صدیوں تک ان کی کہانیاں سنائی جاتی رہیں تاکہ اپنے سپاہیوں کو یہ بتایا جا سکے کہ ایک سچا جنگجو اور نائٹ (Knight) کیسا ہوتا ہے۔

​سلطان کی میراث: صرف فتح نہیں، کردار!

​صلاح الدین ایوبی کی اصل میراث صرف بیت المقدس کی فتح نہیں تھی، بلکہ وہ کردار تھا جو انہوں نے دنیا کے سامنے پیش کیا۔

  • رواداری: انہوں نے غیر مسلموں کے ساتھ وہ سلوک کیا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔
  • اتحادِ اسلامی: انہوں نے ثابت کیا کہ اگر مصر، شام اور حجاز ایک ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت مسلمانوں کو شکست نہیں دے سکتی۔
  • علم کی سرپرستی: انہوں نے بے شمار مدارس قائم کیے جنہوں نے آنے والی صدیوں تک امت کو عظیم علماء اور مفکرین فراہم کیے۔

​آج کے مسلمانوں کے لیے سلطان کا پیغام

​سلطان صلاح الدین ایوبی کی زندگی آج کے دور میں ہمارے لیے ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے۔ ان کی زندگی سے ہمیں تین اہم سبق ملتے ہیں:

  1. اخلاص: ان کا ہر عمل، ہر جنگ اور ہر سجدہ صرف اللہ کی رضا کے لیے تھا۔ وہ نام و نمود کے بھوکے نہیں تھے۔
  2. صبر اور استقامت: اپنوں کی مخالفت اور سازشوں کے باوجود انہوں نے کبھی اپنے بڑے مقصد (قدس کی آزادی) سے نظر نہیں ہٹائی۔
  3. اعلیٰ ظرفی: طاقت کے عروج پر ہو کر بھی دشمن کو معاف کر دینا ہی اصل بہادری ہے۔

​القدس کی پکار

​آج جب ہم دوبارہ بیت المقدس کی صورتحال دیکھتے ہیں، تو ہمیں صلاح الدین ایوبی کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ صلاح الدین کوئی معجزہ نہیں تھے، بلکہ وہ اس ایمان اور اتحاد کا نتیجہ تھے جو نور الدین زنگی نے شروع کیا تھا۔ اگر آج بھی امت اسی اخلاص اور اتحاد کے راستے پر چل پڑے، تو تاریخ اپنے آپ کو دہرا سکتی ہے۔

​حرفِ آخر: تاریخ کا سنہرا باب

​سلطان صلاح الدین ایوبی سیریز کی یہ آخری قسط ہمیں اس عزم کے ساتھ رخصت کرتی ہے کہ حق ہمیشہ غالب رہنے کے لیے آتا ہے۔ سلطان دمشق کی مٹی میں آرام فرما رہے ہیں، لیکن ان کی تلوار کی چمک آج بھی ہر اس مجاہد کے دل میں موجود ہے جو ظلم کے خلاف سینہ سپر ہے۔ وہ شخص جس نے تاریخ کے رخ کو موڑ دیا، وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں ایک روشن ستارے کی طرح چمکتا رہے گا۔

Leave a Comment