تمہید: صدی کا سب سے بڑا دن
تاریخ کے اوراق میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو آنے والی صدیوں کا رخ متعین کر دیتے ہیں۔ پچھلی تین اقساط میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح سلطان صلاح الدین ایوبی نے مصر و شام کو متحد کیا اور بکھری ہوئی امت کو ایک لڑی میں پرو دیا۔ اب وہ وقت آ چکا تھا کہ صلیبیوں کے 88 سالہ غاصبانہ قبضے کا خاتمہ کیا جائے۔ یہ داستان ہے اس ایمان افروز معرکے کی جس نے یورپ کے غرور کو خاک میں ملا دیا اور اس لمحے کی جب مسجدِ اقصیٰ کے میناروں سے ایک بار پھر اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوئیں۔
ارناط کی اشتعال انگیزی اور سلطان کا عزم
جنگِ حطین کا فوری سبب کرک کے ظالم حکمران رینالڈ چیٹلن (ارناط) کی وہ بدتمیزی تھی جس نے سلطان کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا۔ ارناط نے ایک مسلمان تجارتی قافلے پر حملہ کیا، معصوم لوگوں کو قتل کیا اور جب قیدیوں نے سلطان صلاح الدین کا واسطہ دیا تو اس بدبخت نے توہینِ رسالت ﷺ کے الفاظ ادا کیے۔
جب یہ خبر سلطان تک پہنچی تو وہ تڑپ اٹھے۔ انہوں نے اسی وقت اللہ کے حضور سجدہ کیا اور عہد کیا کہ وہ اپنے ہاتھ سے اس ظالم کا سر قلم کریں گے۔ سلطان نے پورے عالمِ اسلام میں جہاد کا اعلان کر دیا اور دمشق سے ایک عظیم الشان لشکر لے کر نکلے۔

معرکہِ حطین: پیاس اور فولاد کا مقابلہ
جولائی 1187ء کی چلچلاتی دھوپ میں حطین کے مقام پر تاریخ کا وہ عظیم معرکہ سجا جس کا انتظار بیت المقدس کی دیواریں کر رہی تھیں۔ سلطان نے ایک ایسی جنگی حکمتِ عملی اپنائی جو آج بھی فوجی درسگاہوں میں پڑھائی جاتی ہے۔
- پانی پر قبضہ: سلطان نے سب سے پہلے طبریہ کی جھیل اور پانی کے تمام ذخائر پر قبضہ کر لیا۔
- پیاس کا ہتھیار: صلیبی فوج بھاری بھرکم لوہے کے لباس پہنے ہوئے تھی اور تپتے ہوئے صحرا میں پیاس سے نڈھال تھی۔
- آگ کا گھیرا: سلطان نے خشک گھاس کو آگ لگوا دی، جس کا دھواں اور تپش صلیبیوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہو گئی۔
جب جنگ شروع ہوئی تو پیاسے اور تھکے ہوئے صلیبی مسلمانوں کے جوشِ ایمانی کا مقابلہ نہ کر سکے۔ سلطان کے سپاہی شیروں کی طرح ٹوٹ پڑے اور دیکھتے ہی دیکھتے صلیبیوں کی عظیم فوج کا شیرازہ بکھر گیا۔ یروشلم کا بادشاہ “لوزینان” اور ظالم ارناط دونوں گرفتار کر لیے گئے۔
ارناط کا انجام اور سلطان کا عدل
جنگ کے بعد جب قیدی سلطان کے خیمے میں لائے گئے، تو سلطان نے بادشاہ لوزینان کو پانی کا پیالہ پیش کیا، لیکن جب ارناط نے اسے پینا چاہا تو سلطان نے روک دیا۔ سلطان نے ارناط کو اس کے جرائم یاد دلائے اور اپنا عہد پورا کرتے ہوئے اس کا سر قلم کر دیا، کیونکہ وہ محسنِ انسانیت ﷺ کی توہین کا مجرم تھا۔ دوسری طرف بادشاہ لوزینان کے ساتھ سلطان نے ایک فاتح کی طرح نہیں بلکہ ایک معزز مہمان کی طرح سلوک کیا، جو سلطان کے بلند اخلاق کی دلیل ہے۔
بیت المقدس کا محاصرہ: ایک جذباتی لمحہ
حطین کی فتح کے بعد سلطان کی منزل ایک ہی تھی: القدس! 20 ستمبر 1187ء کو اسلامی لشکر نے بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا۔ صلیبیوں نے شروع میں مزاحمت کی لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ اب بچنے کا کوئی راستہ نہیں، تو انہوں نے ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کی۔
سلطان چاہتے تو اس خون کا بدلہ لے سکتے تھے جو 1099ء میں صلیبیوں نے مسلمانوں کا بہایا تھا (جب مسلمانوں کا خون گھٹنوں تک بہا تھا)، لیکن صلاح الدین ایوبی تو “رحمت للعالمین ﷺ” کے امتی تھے۔ انہوں نے وہ مثال قائم کی جس نے دشمنوں کے دل بھی جیت لیے۔

فتحِ قدس اور بے مثال عفو و درگزر
جمعہ کے دن 2 اکتوبر 1187ء کو، جو معراج کی رات کے قریب کا دن تھا، سلطان صلاح الدین ایوبی فاتح بن کر بیت المقدس میں داخل ہوئے۔
- عام معافی: سلطان نے کسی سے بدلہ نہیں لیا۔ ہر صلیبی کو معمولی فدیہ دے کر جان بچانے کا موقع دیا۔
- بیواؤں اور یتیموں کی مدد: جن کے پاس فدیہ دینے کے پیسے نہیں تھے، سلطان نے خود ان کی طرف سے رقم ادا کی اور انہیں بحفاظت روانہ کیا۔
- مقدس مقامات کا تحفظ: سلطان نے عیسائیوں کے گرجا گھروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا اور انہیں اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کی اجازت دی۔
جب ایک بوڑھی عیسائی عورت اپنا بچہ گم ہونے کی شکایت لے کر سلطان کے پاس آئی، تو سلطان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور انہوں نے خود مہم چلا کر اس کا بچہ ڈھونڈ کر اسے دیا۔ یہ تھا وہ اخلاق جس نے صلیبیوں کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ “صلاح الدین جیسا فاتح ہم نے تاریخ میں نہیں دیکھا”۔
مسجدِ اقصیٰ کی صفائی اور پہلا خطبہ
88 سال تک مسجدِ اقصیٰ کو اصطبل اور گرجا گھر کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ سلطان نے خود اپنے ہاتھوں سے مسجد کو عرقِ گلاب سے دھویا۔ منبرِ نور الدین زنگی، جو برسوں پہلے اس امید پر بنوایا گیا تھا کہ ایک دن قدس آزاد ہوگا، اسے مسجد میں نصب کیا گیا۔
وہ جمعہ کا دن کتنا عظیم ہوگا جب قاضی محی الدین نے مسجدِ اقصیٰ میں پہلا خطبہ دیا اور فضا “الحمد للہ” کے نعروں سے گونج اٹھی۔ سلطان صلاح الدین محراب میں بیٹھ کر زار و قطار رو رہے تھے، یہ خوشی کے آنسو تھے اور اس شکرانے کے جو ایک عظیم مقصد کی تکمیل پر حاصل ہوا تھا۔

یورپ میں کہرام اور تیسری صلیبی جنگ کی تیاری
بیت المقدس کی فتح کی خبر جب یورپ پہنچی تو وہاں کہرام مچ گیا۔ پوپ صدمے سے انتقال کر گیا اور پورے یورپ نے مل کر ایک نئی صلیبی جنگ کا اعلان کر دیا جسے “تیسری صلیبی جنگ” کہا جاتا ہے۔ انگلستان کا بادشاہ رچرڈ شیر دل، فرانس کا بادشاہ فلپ اور جرمنی کا شہنشاہ فریڈرک ایک بہت بڑا لشکر لے کر ارضِ فلسطین کی طرف روانہ ہو گئے۔
سلطان جانتے تھے کہ اب امتحان ابھی باقی ہے۔ اب ان کا مقابلہ کسی عام فوج سے نہیں بلکہ پورے یورپ کی متحدہ طاقت سے تھا۔
سلطان کی راتوں کی عبادت اور دن کا جہاد
ان تمام فتوحات کے باوجود سلطان کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کے سوانح نگار بہاء الدین شداد لکھتے ہیں کہ سلطان راتوں کو اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعائیں مانگتے: “اے اللہ! تیرے دین کی سربلندی کے لیے مجھے ہمت عطا فرما”۔ وہ میدانِ جنگ میں جتنا سخت تھے، مصلے پر اتنے ہی نرم دل تھے۔ ان کا توکل صرف اللہ پر تھا، اسی لیے وہ دنیا کی کسی بڑی سے بڑی طاقت سے نہیں ڈرے۔

خلاصہِ قسط
قسط چہارم ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ فتح صرف طاقت سے نہیں بلکہ کردار اور اللہ پر بھروسے سے ملتی ہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے حطین کے میدان میں صلیبیوں کی عسکری طاقت کو توڑا اور بیت المقدس کی فتح کے وقت اپنے اخلاق سے ان کی اخلاقی بنیادیں ہلا دیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اسلام تلوار سے زیادہ اپنے عدل اور رحم دلی سے پھیلتا ہے۔
اگلی قسط میں پڑھیے: جب یورپ کا سب سے بڑا سورما رچرڈ شیر دل سلطان کے مقابلے پر آیا۔ دو عظیم بادشاہوں کے درمیان معرکے، رچرڈ کی بیماری اور سلطان کی جانب سے اسے پھل اور ادویات بھیجنے کا وہ واقعہ جس نے تاریخ کو حیران کر دیا۔