قسط پنجم: نور الدین زنگی — وہ شخص جو تاریخ نے بھلا دیا

​تمہید: سفرِ عشق کا آخری پڑاؤ

​نور الدین محمود زنگیؒ کی زندگی ایک ایسی داستان ہے جس کا ہر باب اخلاص، جہاد اور تعمیرِ ملت سے عبارت ہے۔ ہم نے اب تک دیکھا کہ کس طرح ایک نوجوان شہزادے نے بکھری ہوئی امت کو ایک لڑی میں پرویا، مدارس قائم کیے، مصر و شام کو متحد کیا اور صلیبیوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے۔ اب ہم اس منزل پر پہنچ چکے ہیں جہاں اس عظیم سورج کو غروب ہونا تھا، لیکن اس کی روشنی رہتی دنیا تک کے لیے مشعلِ راہ بننی تھی۔

​اس آخری قسط میں ہم سلطان کے آخری ایام، ان کی وفات کے وقت کی سیاسی صورتحال، اور ان کے انتقال کے بعد پیدا ہونے والے ان اثرات کا تذکرہ کریں گے جنہوں نے بالآخر بیت المقدس کی آزادی کی راہ ہموار کی۔

​بیت المقدس پر حملے کی آخری تیاری

​1174ء کے آغاز میں سلطان نور الدین زنگی اپنے مشن کے آخری اور اہم ترین مرحلے پر تھے۔ مصر، شام، موصل اور حلب کے تمام وسائل اب ایک ہی مرکز کے تابع تھے۔ سلطان کا منصوبہ یہ تھا کہ صلیبی ریاستوں پر چاروں اطراف سے ایک ایسا بھرپور حملہ کیا جائے کہ ان کا وجود ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔

​انہوں نے دمشق میں فوج کا ایک عظیم الشان اجتماع کیا تھا۔ تمام چھوٹے بڑے امراء اور جرنیل سلطان کے گرد جمع تھے۔ منبرِ نوری تیار تھا، مجاہدین کے حوصلے بلند تھے اور فضاؤں میں “القدس القدس” کی صدائیں گونج رہی تھیں۔ سلطان خود گھوڑے پر سوار دستوں کا معائنہ کرتے اور ان کی اخلاقی تربیت کرتے تھے۔ لیکن تقدیرِ الٰہی کچھ اور ہی فیصلہ کر چکی تھی۔ سلطان نے جو بیج بویا تھا، اس کا پھل دیکھنے کی سعادت کسی اور کے مقدر میں تھی۔

​وفاتِ حسرت آیات: عالمِ اسلام کا عظیم المیہ

​مئی 1174ء کے وسط میں، جب تیاریاں عروج پر تھیں، سلطان اچانک علیل ہو گئے۔ انہیں گلے کی ایک شدید تکلیف (خناق) لاحق ہوئی جس نے انہیں بستر سے لگا دیا۔ اس بیماری کے دوران بھی سلطان کی زبان پر مسلسل ذکرِ الٰہی اور امت کی فکر رہتی تھی۔

​15 مئی 1174ء (11 شوال 569ھ) کو، بدھ کے دن، اسلام کا یہ عظیم سپوت، مجددِ جہاد اور عادل حکمران 56 سال کی عمر میں اس دارِ فانی سے رخصت ہو گیا۔ ان کے انتقال کی خبر دمشق کی گلیوں سے ہوتی ہوئی جب پوری اسلامی دنیا میں پھیلی تو ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔ صلیبیوں کے کیمپوں میں، جو سلطان کے نام سے لرزتے تھے، خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ ان کا سب سے بڑا دشمن اب ان کے راستے میں نہیں رہا تھا۔

​تدفین اور سادگی کی انتہا

​سلطان کی تدفین دمشق میں ان کے اپنے قائم کردہ مدرسہ نوریہ کے پہلو میں کی گئی۔ ان کی قبر کی سادگی ان کی زندگی کی سادگی کی عکاس تھی۔ تاریخ دان لکھتے ہیں کہ جب سلطان کا ترکہ چیک کیا گیا تو وہاں کوئی سونا چاندی یا بڑی جائیداد نہیں ملی۔ ایک ایسا حکمران جو آدھی سے زیادہ اسلامی دنیا کا مالک تھا، اس نے اپنے پیچھے صرف چند درہم اور وہ تین دکانیں چھوڑیں جو اس کا ذاتی ذریعہ معاش تھیں۔

​ان کے جنازے میں علماء، مجاہدین اور عام عوام کا وہ ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا جس کی مثال دمشق کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ ہر شخص یہ محسوس کر رہا تھا کہ آج امت یتیم ہو گئی ہے۔

​سلطان کی وفات کے فوری اثرات

​سلطان کی وفات کے بعد ان کا گیارہ سالہ بیٹا، الصالح اسماعیل، تخت نشین ہوا۔ کم عمری کی وجہ سے سلطنت میں کچھ اندرونی انتشار پیدا ہوا اور کچھ امراء نے اپنی الگ ریاستیں بنانے کی کوشش کی۔ صلیبیوں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور مسلمانوں کے علاقوں پر حملے تیز کر دیے۔

​لیکن نور الدین زنگی نے جو نظام بنایا تھا، وہ صرف ایک فرد پر مبنی نہیں تھا بلکہ وہ ایک نظریاتی نظام تھا۔ ان کے تربیت یافتہ جرنیل اور خاص طور پر ان کے دستِ راست صلاح الدین ایوبی اس نازک وقت میں سامنے آئے۔ صلاح الدین ایوبی نے نہ صرف نور الدین زنگی کے مشن کو زندہ رکھا بلکہ ان کے اتحاد کے تصور کو مزید وسعت دی اور بالآخر تمام باغی عناصر کو دوبارہ ایک مرکز پر جمع کیا۔

​نور الدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی: استاد اور شاگرد

​اکثر تاریخ دانوں نے صلاح الدین ایوبی کی فتوحات کو بہت نمایاں کیا ہے، لیکن خود سلطان صلاح الدین ایوبی ہمیشہ یہ تسلیم کرتے تھے کہ ان کا ہر کارنامہ نور الدین زنگی کی مرہونِ منت ہے۔

  • فکری تسلسل: نور الدین نے مدارس کے ذریعے جو نسل تیار کی تھی، اسی نسل نے صلاح الدین کی فوج کی ریڑھ کی ہڈی کا کام کیا۔
  • جغرافیائی بنیاد: مصر اور شام کا جو اتحاد نور الدین نے قائم کیا تھا، وہی اتحاد حطین کی جنگ میں فتح کا سبب بنا۔
  • روحانی فیض: صلاح الدین نے نور الدین کی سادگی اور زہد کو اپنا شعار بنایا، جس کی وجہ سے عوام نے انہیں اپنا نجات دہندہ تسلیم کیا۔

​حقیقت یہ ہے کہ نور الدین زنگی وہ “بنیاد” تھے جس پر صلاح الدین ایوبی نے “فتح” کی عمارت کھڑی کی۔ اگر نور الدین زنگی نہ ہوتے تو تاریخ میں شاید ہمیں صلاح الدین ایوبی کا نام بھی نہ ملتا۔

​منبرِ نوری کی مسجدِ اقصیٰ میں تنصیب

​نور الدین زنگی کا وہ مشہور منبر، جو انہوں نے حلب میں برسوں پہلے تیار کروایا تھا، سلطان کی وفات کے وقت دمشق میں موجود رہا۔ جب 1187ء میں (سلطان کی وفات کے 13 سال بعد) صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس فتح کیا، تو انہوں نے اس منبر کو وہاں سے منگوایا اور مسجدِ اقصیٰ میں نصب کیا۔

​یہ منبر اس بات کی علامت تھا کہ خواب نور الدین زنگی نے دیکھا تھا اور اس کی تعبیر ان کے شاگرد کے ہاتھوں مکمل ہوئی۔ یہ منبر کئی صدیوں تک مسلمانوں کی عظمت کی یاد دلاتا رہا، یہاں تک کہ 1969ء میں ایک صیہونی شرپسند نے مسجدِ اقصیٰ کو آگ لگا دی جس میں یہ تاریخی منبر شہید ہو گیا۔

​نور الدین زنگی کی میراث: ایک ابدی پیغام

​سلطان نور الدین زنگی کی زندگی سے ہمیں جو سبق ملتے ہیں، وہ آج کے دور میں بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے آٹھ سو سال پہلے تھے۔

  1. اتحادِ امت کی اہمیت: سلطان نے ثابت کیا کہ مسلمانوں کی کامیابی کا راز صرف اور صرف اتحاد میں ہے۔ جب تک ہم بکھرے رہیں گے، مغلوب رہیں گے۔
  2. تعلیم اور کردار: انہوں نے تلوار سے پہلے قلم اور کردار پر توجہ دی کیونکہ جاہل قومیں کبھی بھی آزادی کی حفاظت نہیں کر سکتیں۔
  3. حکمران کا زہد: ایک سچا مسلم حکمران وہ ہے جو بیت المال کو اللہ کی امانت سمجھے اور اپنی زندگی درویشوں کی طرح گزارے۔
  4. منصوبہ بندی: انہوں نے جذباتی نعروں کے بجائے ٹھوس منصوبہ بندی اور انٹیلی جنس سسٹم کو اہمیت دی۔

​اختتامیہ: تاریخ کا گمنام ہیرو

​نور الدین زنگیؒ تاریخ کے وہ عظیم ہیرو ہیں جنہوں نے اپنا سب کچھ اللہ کے دین کے لیے قربان کر دیا۔ وہ شہرت کے طلبگار نہیں تھے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے کارناموں کی تشہیر کے بجائے خاموشی سے کام کرنے کو ترجیح دی۔ آج اگر ہم مسجدِ اقصیٰ کی آزادی کی بات کرتے ہیں، تو ہمیں اس شخص کو یاد کرنا ہوگا جس نے اس آزادی کی پہلی اینٹ رکھی تھی۔

​ان کا مزار دمشق کی ایک تنگ گلی میں ہے، لیکن ان کا نام پوری دنیا کے مسلمانوں کے دلوں میں بستا ہے۔ وہ ایک ایسے فاتح تھے جنہوں نے تاریخ کے دھارے کو موڑ دیا اور مسلمانوں کو دوبارہ سر اٹھا کر جینے کا حوصلہ دیا۔ اللہ تعالیٰ سلطان نور الدین محمود زنگی پر اپنی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور امتِ مسلمہ کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

سلسلہ مکمل ہوا

اسلامی تاریخ کے گمشدہ اوراق: ابھی سفر باقی ہے!

​سلطان نور الدین زنگیؒ کی یہ پانچ اقساط پر مشتمل داستانِ حیات محض ایک شروعات تھی۔ اسلامی تاریخ ایسے سینکڑوں جانبازوں، جری سپاہیوں اور عادل حکمرانوں کے تذکروں سے بھری پڑی ہے جن کے کارنامے آج بھی ہماری رگوں میں لہو گرمانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اگر آپ کو سلطان نور الدین زنگیؒ کی اس دستاویزی سیریز نے متاثر کیا ہے، تو یقین جانیے کہ سپاہی ہسٹری (Sipahi History) پر آپ کے لیے علم اور ولولے کا ایک سمندر منتظر ہے۔

​ہماری ویب سائٹ پر آپ کو آنے والے دنوں میں سلطان صلاح الدین ایوبی کی مکمل فتوحات، سلطان محمد بن قاسم کی شجاعت، سلطان محمود غزنوی کے معرکے اور سلطنتِ عثمانیہ کے ان گمنام ہیروز کے بارے میں تفصیلی مضامین ملیں گے جنہوں نے اسلام کا پرچم دنیا کے کونے کونے میں بلند کیا۔

​ہماری کوشش ہے کہ ہم تاریخ کے ان روشن ستاروں کی زندگی کو مستند حوالوں کے ساتھ آپ تک پہنچائیں تاکہ نئی نسل اپنے اسلاف کے حقیقی کردار سے روشناس ہو سکے۔ تو پھر دیر کس بات کی؟ اس سلسلے کو اپنے دوستوں اور سوشل میڈیا پر شیئر کریں اور مزید ایسی ایمان افروز تاریخی تحریروں، بصیرت انگیز تجزیوں اور جانباز سلطانوں کی داستانوں کے لیے سپاہی ہسٹری کا باقاعدگی سے وزٹ کرتے رہیں

Leave a Comment