تمہید: تاریخ کا ایک نیا موڑ
جب دنیا ظلم و ستم کی چکی میں پس رہی تھی، جب بیت المقدس کی گلیوں میں مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا تھا اور جب عالمِ اسلام داخلی انتشار کا شکار تھا، تب اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی شخصیت کو پیدا کیا جس نے نہ صرف مسلمانوں کی کھوئی ہوئی عزت بحال کی بلکہ رہتی دنیا تک کے لیے شجاعت، سخاوت اور اعلیٰ ظرفی کی ایک ایسی مثال قائم کر دی جس کا اعتراف آج دشمن بھی کرتے ہیں۔ یہ داستان ہے سلطان صلاح الدین ایوبی کی، وہ عظیم فاتح جس کا نام سن کر یورپ کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہو جاتا تھا۔
اس پہلی قسط میں ہم سلطان کی پیدائش، ان کے خاندانی پس منظر اور ان کی اس ابتدائی تربیت کا ذکر کریں گے جس نے انہیں ایک عام سپاہی سے “فاتحِ بیت المقدس” بنا دیا۔

پیدائش اور ہجرت کا پہلا دن
صلاح الدین ایوبی 1137ء میں عراق کے تاریخی شہر تکریت کے قلعے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، نجم الدین ایوب، اس قلعے کے گورنر تھے۔ تاریخ کی ایک عجیب خوبصورتی دیکھیے کہ جس رات صلاح الدین پیدا ہوئے، اسی رات ان کے خاندان کو تکریت چھوڑ کر ہجرت کرنی پڑی۔ ایک نومولود بچے کے ساتھ یہ ہجرت ایک اشارہ تھی کہ یہ بچہ مستقبل میں آرام پسند نہیں ہوگا، بلکہ اس کی زندگی سفر، جہاد اور مشقتوں سے عبارت ہوگی۔
نجم الدین ایوب اپنے بھائی اسد الدین شیر کوہ کے ہمراہ عماد الدین زنگی (نور الدین زنگی کے والد) کی خدمت میں پہنچے، جہاں ان کی صلاحیتوں کی قدر کی گئی اور انہیں بعلبک کا قلعہ سونپ دیا گیا۔
ایوبی خاندان کا علمی و عسکری ماحول
صلاح الدین کی پرورش ایک ایسے گھرانے میں ہوئی جو علم اور تلوار دونوں کا سنگم تھا۔ ان کے والد نجم الدین ایوب ایک زیرک سیاستدان تھے جبکہ ان کے چچا اسد الدین شیر کوہ اپنے وقت کے بہترین جرنیل تھے۔
بچپن میں صلاح الدین کا رجحان عسکری فنون کے بجائے علمی مباحثوں کی طرف زیادہ تھا۔ وہ قرآن، حدیث، فقہ اور عربی شاعری کے دلدادہ تھے۔ وہ اکثر علماء کی مجالس میں بیٹھتے اور پیچیدہ فقہی مسائل پر بحث کرتے۔ یہیں سے ان کے اندر وہ “روحانی طاقت” پیدا ہوئی جس نے آگے چل کر انہیں میدانِ جنگ میں ثابت قدم رکھا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا کے ان چند جرنیلوں میں سے تھے جو جتنے ماہر میدانِ جنگ کے تھے، اتنے ہی عالمِ دین بھی تھے۔
نور الدین زنگی کی شاگردی: ایک اہم موڑ
صلاح الدین ایوبی کی زندگی کا سب سے بڑا موڑ وہ تھا جب وہ سلطان نور الدین زنگی کے دربار سے وابستہ ہوئے۔ نور الدین زنگی ان کے والد کے قریبی دوست تھے اور انہوں نے نوجوان صلاح الدین کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بھانپ لیا تھا۔
نور الدین زنگی نے صلاح الدین کو دمشق میں اپنا نائب مقرر کیا اور انہیں انتظامی امور کی ذمہ داریاں سونپیں۔ یہاں صلاح الدین نے سیکھا کہ ایک اسلامی ریاست کو کیسے چلایا جاتا ہے، عدل و انصاف کیسے قائم کیا جاتا ہے اور بکھرے ہوئے لوگوں کو ایک مقصد پر کیسے اکٹھا کیا جاتا ہے۔ سلطان نور الدین کی درویشانہ زندگی اور جہاد کا شوق صلاح الدین کے رگ و پے میں سرایت کر گیا۔
خاموش شخصیت اور عظیم وژن
نوجوانی کے عالم میں صلاح الدین بہت خاموش طبع اور سنجیدہ تھے۔ وہ بے جا گفتگو سے پرہیز کرتے اور اپنا زیادہ تر وقت مطالعے یا فوجی مشقوں میں گزارتے۔ ان کے چچا اسد الدین شیر کوہ انہیں اکثر مہمات پر اپنے ساتھ لے جاتے تاکہ وہ عملی طور پر جنگی چالیں سیکھ سکیں۔
اس وقت عالمِ اسلام کی صورتحال یہ تھی کہ مصر میں فاطمی خلافت کمزور ہو چکی تھی اور صلیبیوں کی نظریں قاہرہ پر لگی ہوئی تھیں۔ نور الدین زنگی جانتے تھے کہ اگر مصر پر صلیبیوں کا قبضہ ہو گیا تو وہ شام اور فلسطین کے لیے بہت بڑا خطرہ بن جائیں گے۔ اسی مشن کی تکمیل کے لیے نور الدین نے شیر کوہ کو مصر بھیجنے کا فیصلہ کیا، اور شیر کوہ نے اصرار کیا کہ ان کا بھتیجا صلاح الدین بھی ان کے ساتھ چلے۔
مصر کی پہلی مہم: ایک ناپسندیدہ سفر
دلچسپ بات یہ ہے کہ صلاح الدین ایوبی شروع میں مصر جانے کے حق میں نہیں تھے۔ وہ دمشق کی علمی زندگی اور نور الدین زنگی کی خدمت کو ترجیح دیتے تھے۔ تاریخ کی کتابوں میں درج ہے کہ جب شیر کوہ نے انہیں ساتھ چلنے کا حکم دیا تو صلاح الدین نے کہا: “خدا کی قسم! اگر آپ مجھے پوری مصر کی سلطنت بھی دے دیں تو میں وہاں نہیں جانا چاہتا”۔
لیکن یہ اللہ کی تدبیر تھی، کیونکہ اسی سفر میں صلاح الدین کی وہ فتوحات چھپی تھیں جنہوں نے دنیا کا نقشہ بدلنا تھا۔ وہ بادلِ ناخواستہ اپنے چچا کے ساتھ روانہ ہوئے، اور یہی وہ مہم تھی جہاں سے ان کی عسکری قیادت کا سورج طلوع ہوا۔

پہلی جنگی کامیابی: محاصرہِ اسکندریہ
مصر پہنچنے کے بعد، صلاح الدین کو اسکندریہ کے دفاع کی ذمہ داری سونپی گئی۔ یہ ان کا پہلا بڑا امتحان تھا۔ صلیبیوں اور فاطمی غداروں نے مل کر شہر کا سخت محاصرہ کر لیا۔ تین ماہ تک صلاح الدین نے ایک چھوٹی سی ٹکڑی کے ساتھ شہر کا دفاع کیا، حالانکہ شہر میں خوراک کی شدید قلت تھی اور عوام بھوک سے نڈھال تھے۔
ان کی اس ہمت اور دفاعی حکمتِ عملی نے صلیبیوں کو حیران کر دیا اور بالآخر ایک معاہدے کے تحت محاصرہ ختم ہوا۔ یہ وہ پہلا موقع تھا جب دنیا نے صلاح الدین کے نام سے ایک سپہ سالار کو پہچانا۔
چچا کی وفات اور وزارت کا بوجھ
1169ء میں اسد الدین شیر کوہ کی اچانک وفات ہو گئی۔ یہ صلاح الدین کے لیے ایک بڑا صدمہ تھا، لیکن اس سے بھی بڑا چیلنج وہ سیاسی خلا تھا جو شیر کوہ کے پیچھے چھوڑا تھا۔ مصر کے فاطمی خلیفہ العاضد نے صلاح الدین کو اپنا وزیر مقرر کر دیا۔
اس وقت صلاح الدین کی عمر صرف 31 سال تھی۔ فاطمی درباریوں کا خیال تھا کہ یہ “نوجوان” ان کی سازشوں کا مقابلہ نہیں کر سکے گا اور وہ اسے کٹھ پتلی بنا کر رکھیں گے۔ لیکن ان کا یہ اندازہ غلط ثابت ہوا۔ صلاح الدین نے خاموشی اور تدبر سے مصر کے انتظامی امور کو سنبھالا، فوج کی اصلاح کی اور اپنی سخاوت اور عدل سے مصری عوام کے دل جیت لیے۔
سلطان کی سیرت کا ایک اہم گوشہ
صلاح الدین ایوبی کے بارے میں ایک بات مشہور ہے کہ جب وہ مصر کے وزیر بنے تو انہوں نے عیش و عشرت کی زندگی کو مکمل طور پر خیر باد کہہ دیا۔ انہوں نے فرمایا: “اللہ نے مجھے مصر کی ذمہ داری ایک بڑے مقصد (بیت المقدس کی آزادی) کے لیے دی ہے، لہٰذا اب مجھ پر آرام حرام ہے”۔ وہ راتوں کو پہرہ دیتے اور دن میں رعایا کے مسائل حل کرتے۔

خلاصہِ قسط
صلاح الدین ایوبی کا سفر تکریت کے ایک چھوٹے سے گھرانے سے شروع ہوا اور دمشق کی علمی و عسکری گلیوں سے ہوتا ہوا مصر کی وزارت تک پہنچا۔ یہ صرف ایک انسان کی ترقی کی داستان نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے “فولادی اتحاد” کی بنیاد تھی جس نے آنے والے برسوں میں بیت المقدس کی تقدیر بدلنی تھی۔
اگلی قسط میں پڑھیے: کس طرح صلاح الدین ایوبی نے مصر میں فاطمی خلافت کا خاتمہ کر کے اسے دوبارہ مرکزی خلافت سے جوڑا اور کس طرح وہ نور الدین زنگی کی وفات کے بعد شام و مصر کے اکیلے سلطان بنے۔