تمہید: آزمائش کا نیا دور
تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ عظیم فتوحات ہمیشہ اتحاد کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں۔ دوسری قسط میں ہم نے دیکھا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے کس طرح مصر کو اسلام کا مضبوط قلعہ بنایا۔ لیکن 1174ء میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے پورے عالمِ اسلام کو ہلا کر رکھ دیا۔ سلطان کے مربی، سرپرست اور عظیم مجاہد نور الدین زنگیؒ وفات پا گئے۔ ان کی وفات کے ساتھ ہی وہ اتحاد خطرے میں پڑ گیا جسے زنگیؒ نے برسوں کی محنت سے قائم کیا تھا۔
صلاح الدین کے لیے اب دوہرا چیلنج تھا: ایک طرف صلیبیوں کے بڑھتے ہوئے قدم روکنا اور دوسری طرف نور الدین کے جانشینوں کے درمیان چھڑنے والی خانہ جنگی کو ختم کر کے امت کو ایک پرچم تلے لانا۔ یہ قسط اسی سیاسی جدوجہد اور ایوبی سلطنت کے قیام کی داستان ہے۔

سلطان نور الدین زنگی کی وفات اور سیاسی بحران
مئی 1174ء میں نور الدین زنگی کی وفات کے وقت ان کے بیٹے الملک الصالح کی عمر محض 11 سال تھی۔ کم عمری کی وجہ سے دمشق اور حلب کے امراء میں اقتدار کی جنگ شروع ہو گئی۔ ہر امیر چاہتا تھا کہ وہ چھوٹے شہزادے کا سرپرست بن کر اصل طاقت اپنے ہاتھ میں رکھے۔
اس صورتحال نے صلیبیوں کو ایک بار پھر موقع دے دیا کہ وہ مسلمانوں کے بکھرے ہوئے شہروں پر حملہ آور ہوں۔ صلاح الدین ایوبی، جو اس وقت مصر میں تھے، اس صورتحال سے سخت پریشان تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر شام کے شہر (دمشق، حلب، حمص) آپس میں لڑتے رہے تو بیت المقدس کی آزادی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔
دمشق کی پکار اور سلطان کی روانگی
دمشق کے امراء جب داخلی سازشوں سے تنگ آ گئے، تو انہوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو خط لکھ کر مدد کی اپیل کی۔ سلطان کے لیے یہ فیصلہ بہت مشکل تھا۔ اگر وہ شام جاتے تو ان پر الزام لگ سکتا تھا کہ وہ اپنے استاد کے بیٹے کا تخت چھیننا چاہتے ہیں، اور اگر وہ خاموش رہتے تو صلیبی شام کو نگل جاتے۔
بالآخر، اسلام کی بقاء کی خاطر سلطان نے صرف 700 سواروں کے ساتھ دمشق کا رخ کیا۔ یہ ان کی زندگی کا ایک پرخطر فیصلہ تھا، لیکن ان کی نیت صاف تھی۔ جب وہ دمشق پہنچے، تو عوام نے ان کا والہانہ استقبال کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ صلاح الدین ہی وہ واحد شخص ہیں جو نور الدین زنگی کے مشن کو مکمل کر سکتے ہیں۔

اپنوں کی مخالفت اور سازشیں
صلاح الدین ایوبی کو دمشق میں تو کامیابی ملی، لیکن حلب اور موصل کے امراء ان کے خلاف ہو گئے۔ انہوں نے صلاح الدین کو “باغی” قرار دے دیا اور ان پر قاتلانہ حملے کروائے۔ یہاں تک کہ ان کے خلاف بدنامِ زمانہ “حشاشین” (Assassins) کی خدمات حاصل کی گئیں تاکہ سلطان کو راستے سے ہٹایا جا سکے۔
سلطان پر دو بار قاتلانہ حملہ ہوا، ایک بار تو خنجر ان کے خود (Helmet) سے ٹکرایا، لیکن اللہ نے انہیں محفوظ رکھا۔ ان تمام مخالفتوں کے باوجود سلطان نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔ وہ فرماتے تھے: “میرا مقصد تخت کا حصول نہیں، بلکہ مسلمانوں کو ایک کرنا ہے تاکہ ہم مل کر بیت المقدس کی طرف بڑھ سکیں”۔
معرکہِ قرون حماۃ: اتحاد کی فتح
بالآخر، جب بات مذاکرات سے نہ بنی، تو میدانِ جنگ سج گیا۔ 1175ء میں حماۃ کے مقام پر صلاح الدین کا مقابلہ ان قوتوں سے ہوا جو بظاہر مسلمان تھیں لیکن صلیبیوں کی شہ پر سلطان کے خلاف لڑ رہی تھیں۔
سلطان نے نہایت بادلِ ناخواستہ یہ جنگ لڑی اور اللہ نے انہیں فتح عطا کی۔ اس فتح کے بعد خلیفہِ بغداد نے صلاح الدین ایوبی کو “سلطانِ مصر و شام” کا باقاعدہ لقب عطا کیا اور انہیں ان تمام علاقوں کا خود مختار حکمران تسلیم کر لیا۔ اب صلاح الدین محض ایک گورنر نہیں بلکہ ایک عظیم سلطنت کے “سلطان” بن چکے تھے۔
ایوبی سلطنت کا قیام اور انتظامی اصلاحات
صلاح الدین نے اپنی سلطنت کی بنیاد عدل و انصاف پر رکھی۔ انہوں نے نور الدین زنگی کے دور کے تمام اچھے قوانین کو برقرار رکھا اور نئے مدارس اور ہسپتال قائم کیے۔ انہوں نے اپنی فوج کو جدید خطوط پر استوار کیا اور ایک ایسا جاسوسی نظام بنایا جو دشمن کی ہر حرکت کی خبر رکھتا تھا۔
سلطان کی سب سے بڑی خوبی ان کی سخاوت تھی۔ وہ جنگوں سے حاصل ہونے والا مالِ غنیمت اپنے سپاہیوں اور غریبوں میں تقسیم کر دیتے۔ ان کے پاس جب بھی کوئی سائل آتا، وہ اسے خالی ہاتھ نہ بھیجتے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی فوج کا ہر سپاہی ان سے عشق کرتا تھا اور ان کے ایک حکم پر کٹنے مرنے کو تیار رہتا تھا۔
حشاشین کے قلعوں کا گھیراؤ
اپنے اقتدار کو اندرونی خطرات سے پاک کرنے کے لیے سلطان نے حشاشین کے مضبوط قلعے “مصیف” کا محاصرہ کیا۔ حشاشین کا سربراہ “شیخ الجبل” سلطان کی جان کا دشمن بنا ہوا تھا۔ تاریخ کی کتابوں میں ایک عجیب واقعہ درج ہے کہ ایک رات سلطان کے خیمے میں ایک خنجر اور ایک پیغام ملا، جس سے سلطان کو احساس ہوا کہ دشمن ان کے بستر تک پہنچ سکتا ہے۔
اس کے بعد سلطان نے ایک نئی حکمتِ عملی اپنائی اور حشاشین کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ کر لیا تاکہ وہ مزید ان کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں اور سلطان اپنی پوری توجہ صلیبیوں پر مرکوز کر سکیں۔

صلیبیوں کے خلاف پہلی بڑی مہمات
شام و مصر کے اتحاد کے بعد اب سلطان نے اپنا رخ صلیبی ریاستوں کی طرف موڑا۔ انہوں نے غزہ اور عسقلان کے علاقوں پر حملے کیے تاکہ دشمن کی سپلائی لائن کاٹی جا سکے۔ اس دوران ان کا مقابلہ مشہور صلیبی بادشاہ بالڈون چہارم (Baldwin IV) سے ہوا جو کوڑھ (Leprosy) کے مرض میں مبتلا تھا۔
اگرچہ شروع میں مسلمانوں کو کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن سلطان نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے چھوٹے چھوٹے معرکوں کے ذریعے صلیبیوں کی طاقت کو کمزور کرنا شروع کر دیا اور ثابت کر دیا کہ اب وہ وقت دور نہیں جب قدس کی دیواریں مسلمانوں کا استقبال کریں گی۔
رینالڈ چیٹلن (ارناط) کی بدتہذیبی
اس دور کا سب سے بڑا ولن رینالڈ چیٹلن (Raynald of Châtillon) تھا، جسے مسلمان “ارناط” کہتے تھے۔ وہ کرک کے قلعے کا حکمران تھا اور ایک انتہائی ظالم انسان تھا۔ اس نے کئی بار امن معاہدے توڑے، مسلمان حاجیوں کے قافلے لوٹے اور یہاں تک کہ مدینہ منورہ پر حملے کی ناپاک منصوبہ بندی کی۔
سلطان صلاح الدین کو جب اس کی ان حرکتوں کا پتہ چلا تو انہوں نے اللہ کے حضور قسم کھائی: “میں اپنے ہاتھ سے اس ظالم (ارناط) کا سر قلم کروں گا”۔ یہ ارناط کی ہی بدتمیزیاں تھیں جنہوں نے بالآخر جنگِ حطین کی بنیاد رکھی۔

خلاصہِ قسط
قسط سوم کی یہ داستان ہمیں سکھاتی ہے کہ عظیم مقصد کے لیے اپنوں کی تلخیاں بھی برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ صلاح الدین ایوبی نے اپنی جوانی کے قیمتی سال مسلمانوں کو متحد کرنے میں گزار دیے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ جب تک گھر کے اندر اتحاد نہ ہو، باہر کے دشمن کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ اب مصر اور شام ایک ہو چکے تھے، ایوبی سلطنت قائم ہو چکی تھی، اور اب سلطان کی نظریں صرف ایک ہی ہدف پر تھیں: بیت المقدس!
اگلی قسط میں پڑھیے: وہ عظیم معرکہ جس کا انتظار صدیوں سے تھا — جنگِ حطین! جب سلطان نے صلیبیوں کا غرور خاک میں ملایا اور ارناط کو اپنے انجام تک پہنچایا۔