تمہید: ریگزاروں میں اٹھتا ہوا طوفان
پہلی قسط میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح ایک نوجوان، خاموش طبع اور علم دوست صلاح الدین اپنے چچا اسد الدین شیر کوہ کے ساتھ بادلِ ناخواستہ مصر کی مہم پر روانہ ہوئے۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ تاریخ کا یہ “ناپسندیدہ سفر” دراصل قدس کی آزادی کا پہلا زینہ ثابت ہوگا۔ مصر، جو اس وقت داخلی کمزوریوں اور صلیبی سازشوں کا گڑھ بنا ہوا تھا، ایک ایسے مسیحا کا منتظر تھا جو اسے دوبارہ اسلام کے مرکزی دھارے میں شامل کر سکے۔ اس دوسری قسط میں ہم تذکرہ کریں گے کہ کس طرح سلطان نے مصر کی سیاست کا رخ بدلا اور ایک بکھری ہوئی قوم کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دیا۔
مصر کی سیاسی صورتحال اور صلیبی عزائم
بارہویں صدی عیسوی کے وسط میں مصر کی فاطمی خلافت آخری سانسیں لے رہی تھی۔ خلیفہ العاضد لدین اللہ صرف نام کا حکمران تھا، جبکہ اصل طاقت وزیروں کے ہاتھ میں تھی جو آپس میں دست و گریبان تھے۔ اس سیاسی عدم استحکام نے صلیبیوں کو سنہری موقع فراہم کیا تھا۔ یروشلم کا صلیبی بادشاہ “املرک” (Amalric) جانتا تھا کہ اگر مصر پر قبضہ ہو جائے تو پورے عالمِ اسلام کی کمر ٹوٹ جائے گی۔
دوسری طرف نور الدین زنگیؒ یہ خطرہ بھانپ چکے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ اگر مصر صلیبیوں کے ہاتھ لگ گیا تو شام اور حجاز (مکہ و مدینہ) کا دفاع ناممکن ہو جائے گا۔ اسی وژن کے تحت انہوں نے شیر کوہ اور صلاح الدین کو مصر کی مہم سونپی تھی۔

وزارت کا کانٹوں بھرا تاج
1169ء میں چچا اسد الدین شیر کوہ کی وفات کے بعد، فاطمی خلیفہ نے صلاح الدین کو اپنا وزیر مقرر کیا۔ یہ فیصلہ بظاہر حیران کن تھا، کیونکہ صلاح الدین ایک سنی مسلمان تھے اور فاطمی خلافت ایک الگ عقیدے پر مبنی تھی۔ خلیفہ کے درباریوں کا خیال تھا کہ یہ نوجوان سپہ سالار سیاست سے نابلد ہے اور اسے آسانی سے قابو کیا جا سکے گا۔
لیکن صلاح الدین نے ثابت کیا کہ وہ صرف تلوار کے ہی نہیں، بلکہ تدبر اور سیاست کے بھی شہسوار ہیں۔ انہوں نے وزارت سنبھالتے ہی اپنی زندگی بدل دی۔ انہوں نے ریشمی لباس اور عیش و عشرت کو خیر باد کہہ دیا اور ایک درویش صفت سپاہی کی طرح زندگی گزارنی شروع کی۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنی پوزیشن مستحکم کی اور ان تمام سازشوں کو ناکام بنایا جو ان کے خلاف بنتی جا رہی تھیں۔
سوڈانی فوج کی بغاوت اور سلطان کی حکمتِ عملی
صلاح الدین کے لیے سب سے بڑا داخلی خطرہ فاطمی خلافت کی “سوڈانی فوج” تھی، جس کی تعداد ہزاروں میں تھی اور وہ صلیبیوں کے ساتھ مل کر سلطان کو ہٹانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ 1169ء کے آخر میں ان باغیوں نے قاہرہ کی گلیوں میں بغاوت کر دی۔
صلاح الدین نے نہایت چابکدستی سے اس بغاوت کو کچلا۔ انہوں نے نہ صرف باغیوں کو شکست دی بلکہ مصر کی فوج کی ازسرِ نو تشکیل کی اور اسے وفادار دستوں میں تبدیل کر دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب مصر کی زمین پر صلاح الدین کی گرفت مضبوط ہو گئی۔ اب ان کا اگلا ہدف وہ صلیبی تھے جو سرحدوں پر منڈلا رہے تھے۔
دمیاط کا معرکہ: ایک عظیم دفاع
صلیبیوں نے دیکھا کہ صلاح الدین مصر میں طاقتور ہو رہے ہیں، تو انہوں نے ایک بہت بڑا بحری اور زمینی حملہ کر دیا۔ بازنطینی سلطنت اور صلیبی بادشاہوں کے مشترکہ بیڑے نے مصر کے ساحلی شہر دمیاط کا محاصرہ کر لیا۔
یہ صلاح الدین کے لیے ایک بڑا عسکری امتحان تھا۔ انہوں نے شہر کے دفاع کے لیے بہترین انتظامات کیے اور خود قاہرہ سے کمک روانہ کی۔ 50 دن تک جاری رہنے والے اس سخت محاصرے کے بعد، صلیبیوں کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وہ بھاری نقصان اٹھا کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔ اس فتح نے نہ صرف مصر کو بچایا بلکہ پورے عالمِ اسلام میں صلاح الدین کی دھاک بٹھا دی۔
فاطمی خلافت کا خاتمہ: ایک تاریخی انقلاب
سلطان نور الدین زنگی کا اصل مقصد یہ تھا کہ مصر کو دوبارہ خلافتِ عباسیہ (بغداد) کے ساتھ جوڑا جائے تاکہ مسلمانوں کی طاقت ایک مرکز پر اکٹھی ہو۔ صلاح الدین اس مشن کو نہایت احتیاط سے آگے بڑھا رہے تھے۔ وہ خلیفہ العاضد کا احترام کرتے تھے لیکن آہستہ آہستہ نظامِ حکومت کو سنی فقہ کے مطابق ڈھال رہے تھے۔
1171ء میں جب خلیفہ العاضد شدید بیمار ہوئے، تو صلاح الدین نے دیکھا کہ اب وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے جمعہ کے خطبے میں فاطمی خلیفہ کے بجائے بغداد کے عباسی خلیفہ کا نام پڑھوانے کا حکم دیا۔ حیرت انگیز طور پر، مصر میں کوئی بڑی مخالفت نہیں ہوئی کیونکہ عوام صلاح الدین کے عدل اور حسنِ انتظام سے خوش تھے۔
خلیفہ العاضد کی وفات کے ساتھ ہی 200 سالہ فاطمی دور کا خاتمہ ہو گیا اور مصر دوبارہ سوادِ اعظم کے ساتھ جڑ گیا۔ یہ صلاح الدین کی زندگی کی سب سے بڑی سیاسی کامیابی تھی، جس نے “اتحادِ اسلامی” کی بنیاد رکھی۔
مصر کی تعمیر و ترقی اور معاشی اصلاحات
سلطان جانتے تھے کہ ایک مضبوط فوج کے لیے ایک مضبوط معیشت ضروری ہے۔ انہوں نے مصر میں زمینی اصلاحات کیں، ناجائز ٹیکس ختم کیے اور تجارت کو فروغ دیا۔ انہوں نے قاہرہ میں مشہور “قلعہِ صلاح الدین” (Citadel of Cairo) کی بنیاد رکھی اور شہر کے گرد ایک عظیم دیوار تعمیر کروائی تاکہ اسے بیرونی حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
انہوں نے جا بجا مدرسے، ہسپتال اور مسافر خانے تعمیر کروائے۔ وہ خود مدرسوں میں جا کر طلباء سے ملتے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے۔ ان کی ان اصلاحات کی وجہ سے مصر ایک خوشحال ریاست بن گیا، جو آنے والے بڑے معرکوں کے لیے مالی اور جانی مدد فراہم کرنے کے قابل تھا۔

نور الدین زنگی کے ساتھ تعلقات اور غلط فہمیاں
اس دوران تاریخ دان کچھ ایسی غلط فہمیوں کا ذکر بھی کرتے ہیں جو نور الدین زنگی اور صلاح الدین کے درمیان پیدا ہوئیں۔ نور الدین چاہتے تھے کہ صلاح الدین فوری طور پر صلیبی ریاستوں پر حملہ کریں، جبکہ صلاح الدین پہلے مصر کے داخلی حالات کو مکمل طور پر قابو کرنا چاہتے تھے۔
کچھ حاسدوں نے نور الدین کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ صلاح الدین مصر میں اپنی الگ سلطنت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن صلاح الدین نے ہمیشہ اپنی وفاداری ثابت کی۔ انہوں نے نور الدین کو لکھ بھیجا: “میں آپ کا ایک ادنیٰ سپاہی ہوں اور مصر آپ ہی کی امانت ہے”۔ یہ ایک عظیم شاگرد کی اپنے مرشد کے لیے عقیدت تھی جس نے دشمنوں کی تمام سازشوں کو خاک میں ملا دیا۔
سلطان کی درویشی اور تقویٰ
مصر کا حکمران ہونے کے باوجود صلاح الدین کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ وہ آج بھی اسی پرانے کمبل پر سوتے اور سادہ غذا کھاتے۔ ان کے پاس جو بھی مال و دولت آتی، وہ اسے غریبوں اور جہاد کے کاموں میں تقسیم کر دیتے۔ ان کے سوانح نگار لکھتے ہیں کہ سلطان کو زرق برق لباس سے نفرت تھی اور وہ ہمیشہ عاجزی کو اپنا شعار بناتے تھے۔ یہی وہ اخلاق تھا جس نے انہیں اپنے سپاہیوں کی نظر میں محبوب بنا دیا تھا۔ سپاہی ان کے ایک اشارے پر اپنی جان دینے کو تیار رہتے تھے۔

خلاصہِ قسط
قسط دوم کی یہ داستان ہمیں بتاتی ہے کہ صلاح الدین ایوبی نے کس طرح ایک بکھرے ہوئے اور سازشوں میں گھرے ہوئے مصر کو اسلام کا قلعہ بنا دیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ فتح صرف تلوار سے نہیں، بلکہ بلند کردار اور اتحاد سے حاصل ہوتی ہے۔ فاطمی خلافت کا پرامن خاتمہ اور مصر کا بغداد سے الحاق وہ سنگِ میل تھا جس نے قدس کی آزادی کی راہ ہموار کی۔
اگلی قسط میں پڑھیے: جب سلطان نور الدین زنگی کا سایہ سر سے اٹھ گیا، تو عالمِ اسلام کس بحران کا شکار ہوا؟ صلاح الدین نے کس طرح شام کے بکھرے ہوئے شہروں کو متحد کیا اور ایوبی سلطنت کا باقاعدہ آغاز کیسے ہوا؟