ملتان کی طرف پیش قدمی: ‘سونے کا شہر’
سندھ کے مرکزی شہروں اور راجہ داہر کے دارالحکومت ارور (الور) کی فتح کے بعد، محمد بن قاسم کی فتوحات کا سلسلہ رکا نہیں بلکہ مزید تیزی سے شمال کی طرف بڑھا۔ ان کی اگلی بڑی منزل ملتان تھی۔ ملتان اس وقت نہ صرف ایک بڑا تجارتی مرکز تھا بلکہ اسے “سونے کا شہر” (City of Gold) کہا جاتا تھا، کیونکہ یہاں کے مشہور مندر میں بے پناہ سونا اور دولت جمع تھی۔
ملتان کا قلعہ اپنی مضبوطی میں بے مثال تھا۔ جب اسلامی لشکر وہاں پہنچا تو اہل مہاراج (ملتان کے حکمران) نے سخت مزاحمت کی۔ یہ محاصرہ کئی ماہ تک جاری رہا۔ ملتان کے قلعے کے اندر خوراک اور پانی کے ذخائر وافر تھے، جس کی وجہ سے دشمن ہتھیار ڈالنے کو تیار نہ تھا۔ اسی دوران ایک مقامی شخص نے، جو داہر کے خاندان کے ظلم کا شکار تھا، محمد بن قاسم کو قلعے کے اندر جانے والے پانی کے خفیہ راستے کا پتہ بتا دیا۔ مسلمانوں نے اس نہر کا رخ موڑ دیا، جس کے نتیجے میں قلعہ بند فوج پیاس سے نڈھال ہو گئی اور بالآخر قلعہ فتح کر لیا گیا۔
ملتان کی فتح نے پورے برصغیر میں محمد بن قاسم کی دھاک بٹھا دی۔ یہاں سے حاصل ہونے والا مالِ غنیمت اتنا زیادہ تھا کہ جب اسے بصرہ بھیجا گیا، تو حجاج بن یوسف نے کہا: “ہم نے اپنے بھائیوں کے خون کا بدلہ لے لیا اور ہمیں مہم پر اٹھنے والے اخراجات سے دگنا مال حاصل ہوا۔”
سندھ میں مثالی اسلامی نظامِ حکومت کا قیام
محمد بن قاسم کی سب سے بڑی کامیابی صرف جنگ جیتنا نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا نظامِ حکومت قائم کرنا تھا جس نے مقامی لوگوں کے دل جیت لیے۔ انہوں نے سندھ کو انتظامی طور پر مختلف حصوں میں تقسیم کیا اور ہر جگہ ایک گورنر مقرر کیا۔
- عدل و انصاف کا بول بالا: محمد بن قاسم نے ایک ایسا عدالتی نظام بنایا جہاں امیر اور غریب، مسلمان اور غیر مسلم سب برابر تھے۔ انہوں نے واضح احکامات جاری کیے کہ کسی بھی شخص پر ظلم نہ کیا جائے۔
- مذہبی رواداری (برہمن آباد کا معاہدہ): جب برہمنوں نے اپنے حقوق کے بارے میں پوچھا، تو محمد بن قاسم نے تاریخ ساز فیصلہ دیا کہ “ہندوؤں کے مندروں کو وہی حیثیت حاصل ہوگی جو عیسائیوں کے گرجوں اور یہودیوں کے عبادت خانوں کو حاصل ہے۔” انہوں نے مندروں کی حفاظت کے لیے سرکاری محافظ مقرر کیے اور پجاریوں کو ان کے پرانے وظائف جاری رکھنے کی اجازت دی۔
- ٹیکسوں میں نرمی: راجہ داہر کے دور میں نچلی ذات کے لوگوں (جیسے جاٹ اور میڈ) پر بہت سخت پابندیاں تھیں۔ محمد بن قاسم نے ان تمام ظالمانہ پابندیوں کو ختم کر دیا اور جزیہ کی شرح اتنی کم رکھی کہ غریب عوام اسے خوشی سے ادا کرنے لگے۔
اس حسنِ سلوک کا نتیجہ یہ نکلا کہ سندھ کے لوگ محمد بن قاسم کو ایک “دیوتا” کی طرح ماننے لگے اور ان کے اخلاق سے متاثر ہو کر جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہونے لگے۔
حجاج بن یوسف کا انتقال اور سیاسی تبدیلیاں
جب محمد بن قاسم فتوحات کے عروج پر تھے اور قنوج (ہندوستان کا دل) کی طرف بڑھنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، تبھی عراق سے ایک افسوسناک خبر آئی۔ ان کے سرپرست، چچا اور سسر حجاج بن یوسف کا 714ء میں انتقال ہو گیا۔
حجاج بن یوسف کی وفات محمد بن قاسم کے لیے ایک بہت بڑا دھکا تھا، کیونکہ وہ ان کی پشت پناہی کرنے والی سب سے بڑی قوت تھے۔ کچھ ہی عرصے بعد خلیفہ ولید بن عبدالملک کا بھی انتقال ہو گیا اور نیا خلیفہ سلیمان بن عبدالملک تخت نشین ہوا۔ سلیمان بن عبدالملک، حجاج بن یوسف کا سخت ترین دشمن تھا، اور اس دشمنی کا خمیازہ حجاج کے خاندان اور اس کے وفادار جرنیلوں کو بھگتنا پڑا۔
دشمنوں کی سازشیں اور گرفتاری
سلیمان بن عبدالملک نے تخت سنبھالتے ہی حجاج کے مقرر کردہ تمام گورنروں کو معزول کرنا شروع کر دیا۔ اس نے یزید بن ابی کبشہ کو سندھ کا نیا گورنر مقرر کیا اور حکم دیا کہ محمد بن قاسم کو زنجیروں میں جکڑ کر دارالخلافہ لایا جائے۔
مورخین لکھتے ہیں کہ جب محمد بن قاسم کو اس حکم کا علم ہوا، تو وہ چاہتے تو بغاوت کر سکتے تھے۔ ان کی فوج ان پر جان نچھاور کرتی تھی اور سندھ کے عوام ان کے ایک اشارے پر کٹ مرنے کو تیار تھے، لیکن اس عظیم سپاہی نے اطاعتِ امیر کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا: “میں خلیفہ کے حکم کی نافرمانی کر کے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ نہیں ڈالنا چاہتا۔” انہوں نے اپنی گرفتاری پیش کر دی اور خاموشی سے عراق روانہ ہو گئے۔
المناک انجام: قید خانہ اور شہادت
محمد بن قاسم کو واسط (عراق) کے قید خانے میں ڈال دیا گیا۔ ان پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے اور انہیں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ سلیمان بن عبدالملک کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہو رہا تھا، وہ حجاج کی دشمنی کا بدلہ اس نوجوان سے لے رہا تھا جس نے اسلام کی سرحدوں کو چین تک پھیلا دیا تھا۔
715ء میں، محض 20 سال کی عمر میں، یہ عظیم فاتح قید خانے میں تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گیا۔ ایک روایت (جو کہ چچ نامہ میں مذکور ہے لیکن کئی مورخین اسے غلط قرار دیتے ہیں) کے مطابق راجہ داہر کی بیٹیوں نے خلیفہ کو جھوٹا پیغام بھیجا کہ محمد بن قاسم نے ان کی عصمت دری کی ہے، جس پر خلیفہ نے غصے میں آ کر انہیں کچے چمڑے میں سلوانے کا حکم دیا۔ تاہم، زیادہ معتبر تاریخی حوالہ یہی ہے کہ وہ سیاسی انتقام اور قید خانے کے تشدد کا شکار ہوئے۔
سندھ کا سوگ اور تاریخ کا فیصلہ
جب محمد بن قاسم کی وفات کی خبر سندھ پہنچی، تو پورے ملک میں کہرام مچ گیا۔ مورخین لکھتے ہیں کہ سندھ کے شہروں (خصوصاً کیرج) کے لوگوں نے محمد بن قاسم کے مجسمے بنائے اور ان کی موت پر اس طرح روئے جیسے ان کا اپنا باپ مر گیا ہو۔ کسی فاتح کے لیے اس سے بڑا اعزاز کیا ہو سکتا ہے کہ مفتوحہ قوم اس کے جانے پر خون کے آنسو روئے۔
محمد بن قاسم نے محض ساڑھے تین سال سندھ میں گزارے، لیکن ان چند سالوں میں انہوں نے وہ بنیاد رکھی جس پر آج پاکستان کی عمارت کھڑی ہے۔ انہیں “پہلا پاکستانی” کہنا غلط نہ ہوگا کیونکہ انہوں نے ہی اس خطے کا تعلق مرکزِ اسلام سے جوڑا۔
محمد بن قاسم کی شخصیت کا نچوڑ
محمد بن قاسم کی زندگی سے ہمیں تین بڑے سبق ملتے ہیں:
- جذبہ اور قابلیت عمر کی محتاج نہیں: 17 سال کی عمر میں اتنی بڑی مہم سر کرنا رہتی دنیا تک کے نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
- اخلاق سب سے بڑا ہتھیار ہے: انہوں نے قلعے منجنیق سے توڑے، لیکن دل اپنے اخلاق اور انصاف سے فتح کیے۔
- اطاعتِ امیر: انہوں نے اپنی جان دے دی لیکن خلافتِ اسلامیہ کے خلاف بغاوت کر کے اتحادِ امت کو نقصان نہیں پہنچایا۔
سلطان محمد بن قاسم کی داستان ایک ایسی ادھوری کہانی ہے جسے اگر سازشوں کی نظر نہ کیا جاتا، تو شاید آج پورے برصغیر کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔ لیکن ان کی لگائی ہوئی شمع آج بھی پاکستان کی صورت میں روشن ہے۔
نتیجہ (Conclusion)
سلطان محمد بن قاسم تاریخِ اسلام کے وہ درخشندہ ستارے ہیں جن کی روشنی کبھی مدھم نہیں ہوگی۔ آپ کی ویب سائٹ کی “Islamic Heroes” سیریز میں یہ تینوں اقساط قارئین کو نہ صرف تاریخی معلومات فراہم کریں گی بلکہ ان میں جذبہِ ایمانی بھی بیدار کریں گی۔