دیبل کا محاصرہ اور تاریخ ساز معرکہ
پہلی قسط میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح حجاج بن یوسف نے اپنے نو عمر مگر نہایت باصلاحیت بھتیجے اور داماد محمد بن قاسم کو سندھ کی مہم پر روانہ کیا۔ یہ سفر محض ایک جغرافیائی فتح کی خواہش نہیں تھی، بلکہ یہ ایک مظلوم پکار کا جواب اور حق و باطل کے درمیان ایک ایسے معرکے کا آغاز تھا جس نے جنوبی ایشیا کی تاریخ ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دی۔ 712ء کا وہ سال تھا جب مکران کے ریگزاروں کو عبور کرتا ہوا اسلامی لشکر دیبل کی دیواروں کے سامنے پہنچ کر خیمہ زن ہوا۔
دیبل کی جغرافیائی اور عسکری اہمیت

دیبل (جو موجودہ کراچی کے قریب بنبھور کا علاقہ سمجھا جاتا ہے) اس وقت سندھ کی سب سے اہم تجارتی بندرگاہ اور ایک مضبوط قلعہ بند شہر تھا۔ راجہ داہر کے غرور کا مرکز یہی شہر تھا، کیونکہ یہاں کی دیواریں بہت بلند اور مضبوط تھیں جنہیں اس وقت کی روایتی جنگی مہارتوں سے توڑنا ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ شہر کے چاروں طرف گہری خندقیں کھودی گئی تھیں اور برجوں پر ماہر تیر انداز متعین تھے۔ محمد بن قاسم نے شہر کے باہر پہنچ کر نہایت صبر و تحمل کے ساتھ محاصرے کا حکم دیا اور حجاج بن یوسف کے بھیجے ہوئے بحری بیڑے کا انتظار کرنے لگے جس میں سنگ باری کرنے والی مشینیں (منجنیقیں) موجود تھیں۔
منجنیقوں کی آمد اور جدید جنگی حکمتِ عملی
کچھ ہی دنوں میں بصرہ سے بحری بیڑہ دیبل کے ساحل پر لنگر انداز ہو گیا۔ اس بیڑے میں وہ جدید عسکری ساز و سامان تھا جس نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔ ان میں سب سے اہم “منجنیق” تھی، جسے اس دور کا ٹینک یا بھاری توپ خانہ کہا جا سکتا ہے۔ محمد بن قاسم نے پانچ بڑی منجنیقیں نصب کروائیں، جن میں سب سے بڑی منجنیق کا نام “العروہ” (جس کا مطلب ہے ‘مضبوط سہارا’) تھا۔ اس ایک منجنیق کو چلانے کے لیے 500 تربیت یافتہ سپاہی مامور تھے۔
محمد بن قاسم نے محض اندھا دھند حملے کے بجائے نفسیاتی جنگ کا سہارا لیا۔ قلعے کے اندر ایک بہت بڑا مندر تھا، جس کے اوپر ایک نہایت طویل اور سرخ رنگ کا پرچم لہرا رہا تھا۔ وہاں کے پجاریوں اور سپاہیوں کا یہ توہم پرستانہ عقیدہ تھا کہ جب تک یہ جھنڈا سلامت ہے، دیبل کو کوئی فتح نہیں کر سکتا۔ حجاج بن یوسف نے محمد بن قاسم کو خط میں خصوصی ہدایت لکھی تھی کہ: “سب سے پہلے اس سرخ جھنڈے اور مندر کے گنبد کو نشانہ بناؤ۔”
سرخ پرچم کا گرنا اور نفسیاتی فتح
محمد بن قاسم نے منجنیق کے ماہرین کو بلا کر جھنڈے کا نشانہ لینے کا حکم دیا۔ جب “العروہ” سے پہلا بھاری پتھر نکلا، تو وہ سیدھا مندر کے گنبد پر لگا، جس سے وہ عظیم الشان جھنڈا زمین بوس ہو گیا۔ یہ منظر دیکھ کر قلعہ بند فوج کے حوصلے پست ہو گئے اور پورے شہر میں چیخ و پکار مچ گئی۔ ہندو فوج کا عقیدہ ٹوٹ چکا تھا۔ اسی لمحے محمد بن قاسم نے عام حملے کا حکم دیا اور مسلمان مجاہدین “اللہ اکبر” کے نعرے لگاتے ہوئے دیواروں پر چڑھ گئے۔ شدید لڑائی کے بعد دیبل فتح ہو گیا اور راجہ داہر کا گورنر جے سنگھ وہاں سے بھاگ کر اپنے باپ کے پاس پہنچ گیا۔
فتح کے بعد مثالی اسلامی کردار
دیبل کی فتح کے بعد محمد بن قاسم نے وہ کیا جو تاریخِ عالم میں فاتحین بہت کم کرتے ہیں۔ انہوں نے مفتوحہ قوم کے ساتھ عدل و انصاف کا وہ نمونہ پیش کیا کہ دشمن بھی دنگ رہ گئے۔ انہوں نے مندروں کو نقصان پہنچانے سے منع کیا، عورتوں اور بچوں کی حفاظت یقینی بنائی اور قیدیوں کو رہا کر دیا۔ انہوں نے شہر میں پہلا اسلامی مرکز قائم کیا اور ایک خوبصورت مسجد کی بنیاد رکھی۔ یہ وہی مقام تھا جہاں سے برصغیر میں اذانِ بلالی کی گونج اٹھی۔
پیش قدمی: نیرون اور سہون کی تسخیر

دیبل کے بعد محمد بن قاسم نے آرام کرنے کے بجائے پیش قدمی جاری رکھی۔ اگلی منزل نیرون (موجودہ حیدرآباد) تھی۔ نیرون کے لوگ بدھ مت کے پیروکار تھے اور وہ راجہ داہر کے متعصبانہ رویے سے سخت نالاں تھے۔ جب محمد بن قاسم وہاں پہنچے، تو شہر کے پجاریوں اور سرداروں نے جنگ کے بجائے صلح کا راستہ اپنایا اور فاتح سپہ سالار کا استقبال کیا۔ محمد بن قاسم نے ان کے ساتھ نہایت نرمی برتی اور ان کے مذہبی حقوق کا تحفظ کیا۔
اسی طرح جب لشکر سہون پہنچا، تو وہاں کے عوام نے بھی دیکھا کہ مسلمان فاتحین صرف زمین نہیں جیت رہے بلکہ دل جیت رہے ہیں۔ محمد بن قاسم کی شہرت ان کے لشکر سے پہلے شہروں میں پہنچ رہی تھی کہ یہ وہ قوم ہے جو وعدے کی پکی ہے اور کمزوروں کا سہارا بنتی ہے۔
دریائے سندھ کے کنارے: ایک کٹھن امتحان
راجہ داہر اب اپنے قلعے سے باہر نکلنے پر مجبور ہو چکا تھا۔ اس نے دریائے سندھ کے دوسری طرف (مشرقی کنارے پر) اپنی عظیم الشان فوج جمع کر لی تھی۔ دریا کی تند و تیز لہریں مسلمانوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ تھیں۔ داہر کا خیال تھا کہ مسلمان کبھی دریا پار نہیں کر سکیں گے اور وہیں بھوکے پیاسے مر جائیں گے۔
محمد بن قاسم نے یہاں ایک بار پھر اپنی عسکری ذہانت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مقامی ملاحوں کی مدد لی اور کشتیوں کو زنجیروں کے ذریعے ایک دوسرے سے جوڑ کر ایک “کشتیوں کا پل” تیار کیا۔ جب یہ پل تیار ہو گیا، تو رات کی تاریکی میں اسلامی فوج کا ایک حصہ دریا پار کر گیا اور صبح ہوتے ہی داہر کے سامنے صف آرا ہو گیا۔
ارور کا میدان: حق و باطل کا فیصلہ کن معرکہ
10 رمضان المبارک 93ھ (712ء) کو سندھ کی سرزمین نے وہ معرکہ دیکھا جس کا انتظار صدیوں سے تھا۔ ایک طرف راجہ داہر تھا جو ایک دیوہیکل ہاتھی پر سوار تھا، اس کے پاس 50,000 سے زائد فوج، سینکڑوں جنگی ہاتھی اور بہترین زرہ پوش سوار تھے۔ دوسری طرف محمد بن قاسم کے مٹھی بھر 12,000 جاں نثار تھے جن کے پاس ہتھیار کم تھے لیکن ایمان کی قوت بے پناہ تھی۔
جنگ شروع ہوئی تو ہاتھیوں نے مسلمانوں کی صفوں میں ہلچل مچانے کی کوشش کی، لیکن محمد بن قاسم نے اپنے تیر اندازوں کو حکم دیا کہ وہ ہاتھیوں کی آنکھوں اور ان پر بیٹھے مہاوتوں کو نشانہ بنائیں۔ اسی دوران ایک سپاہی نے آتش گیر مادہ لگا ہوا تیر داہر کے ہاتھی کے ہودج پر مارا، جس سے ہاتھی میں آگ لگ گئی۔ بدحواسی میں ہاتھی دریا کی طرف بھاگا اور داہر زمین پر گر گیا۔ گرتے ہی عرب سپاہیوں نے اسے گھیر لیا اور اس کا سر قلم کر دیا گیا۔
راجہ داہر کا قتل ہونا تھا کہ اس کی لاکھوں کی فوج تتر بتر ہو گئی اور میدانِ جنگ میں مسلمانوں کی فتح کا ڈنکا بج گیا۔
سندھ کا نیا نظامِ عدل اور عوام کی محبت
ارور (الور) کی فتح کے بعد پورا سندھ محمد بن قاسم کے قدموں میں تھا۔ لیکن اس فاتح نے انتقام کے بجائے اصلاحات کا آغاز کیا۔ انہوں نے:
- ظالمانہ ٹیکسوں کا خاتمہ: راجہ داہر نے غریب عوام پر جو بھاری ٹیکس لگائے تھے، وہ ختم کر دیے۔
- مذہبی آزادی: ہندوؤں اور بدھ مت کے ماننے والوں کو “اہلِ کتاب” کے برابر حقوق دیے اور ان کے معبدوں کو تحفظ فراہم کیا۔
- انتظامی اصلاحات: مقامی لوگوں کو حکومت میں شامل کیا اور انہیں اہم عہدے دیے۔
محمد بن قاسم کے عدل کا یہ عالم تھا کہ جب وہ کسی شہر سے رخصت ہوتے، تو وہاں کے ہندو اور بدھ باشندے روتے تھے اور ان کے لیے دعائیں کرتے تھے۔ ان کے اس کردار نے لوگوں کو اسلام کی طرف مائل کیا اور سندھ “باب الاسلام” بن گیا۔

خلاصہ
سلطان محمد بن قاسم کی یہ مہم محض ایک فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ ایک تہذیبی انقلاب تھا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ حقیقی فتح تلوار سے نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاق اور انسانی ہمدردی سے حاصل ہوتی ہے۔ قسط دوم میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح باطل کا غرور خاک میں ملا، لیکن اس داستان کا ایک اور پہلو بھی ہے جس میں اس عظیم فاتح کی واپسی اور ان کا المناک انجام چھپا ہے۔
اگلی قسط (قسط سوم) میں آپ پڑھیں گے:
- ملتان کی فتح اور سونے کا قلعہ۔
- محمد بن قاسم کا خلیفہ کے دربار میں مقام۔
- دشمنوں کی سازشیں اور ایک عظیم ہیرو کا افسوسناک اختتام۔