برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں اگر کسی ایک شخصیت کو “محسنِ پاکستان” یا “باب الاسلام کا بانی” کہا جائے، تو وہ بلا شبہ عماد الدین محمد بن قاسم ہیں۔ محض 17 سال کی عمر میں، جب نوجوان اپنی زندگی کے ڈھنگ سیکھ رہے ہوتے ہیں، اس جری سپاہی نے ہزاروں میل دور ایک اجنبی زمین پر اسلام کا جھنڈا گاڑ کر تاریخ کا دھارا بدل دیا۔

خاندانی پس منظر اور ولادت
محمد بن قاسم کا تعلق حجاز (موجودہ سعودی عرب) کے مشہور قبیلے بنو ثقیف سے تھا۔ یہ قبیلہ اپنی شجاعت، فصاحت اور سیاسی بصیرت کی وجہ سے پورے عرب میں ممتاز تھا۔ محمد بن قاسم کی ولادت تقریباً 695ء میں طائف کے خوبصورت شہر میں ہوئی۔ ان کے والد، قاسم بن یوسف، ایک معزز انسان تھے، لیکن محمد بن قاسم ابھی کم سن ہی تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔
ان کی پرورش ان کی والدہ نے نہایت کٹھن حالات میں کی، لیکن انہوں نے اپنے بیٹے کی تعلیم اور عسکری تربیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ محمد بن قاسم کے چچا حجاج بن یوسف، جو اس وقت بنو امیہ کی خلافت کے مشرقی صوبوں کے گورنر تھے، نے اپنے بھتیجے کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا اور انہیں اپنی سرپرستی میں لے لیا۔
عہدِ شباب اور پہلی فوجی مہمات
محمد بن قاسم نے بچپن ہی سے گھڑ سواری، شمشیر زنی اور تیر اندازی میں کمال حاصل کر لیا تھا۔ حجاج بن یوسف نے انہیں محض ایک رشتہ دار ہونے کی بنا پر آگے نہیں بڑھایا، بلکہ محمد بن قاسم نے اپنی قابلیت سے ثابت کیا کہ وہ قیادت کے اہل ہیں۔
سندھ کی مہم سے قبل، انہیں شیراز (ایران) کا گورنر مقرر کیا گیا تھا۔ وہاں انہوں نے اپنی انتظامی صلاحیتوں کا ایسا مظاہرہ کیا کہ عوام ان کے گرویدہ ہو گئے۔ انہوں نے نہ صرف وہاں کے باغیوں کا قلع قمع کیا بلکہ انصاف کا ایسا نظام قائم کیا جس نے انہیں ایک مقبول لیڈر بنا دیا۔ یہی وہ تجربہ تھا جس نے انہیں ایک عظیم فاتح بننے کے لیے تیار کیا۔
سندھ پر حملے کے محرکات: صرف ایک خط یا ایک بڑی حکمتِ عملی؟
عام طور پر تاریخ کی کتابوں میں صرف “خواتین کے اغوا” کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں سندھ کی فتح کے پیچھے کئی سیاسی اور تزویراتی (Strategic) اسباب موجود تھے۔
- بحری قزاقوں کی سرکوبی: اس وقت سندھ کے ساحل (دیبل) پر بحری قزاقوں کا راج تھا جو بصرہ اور عمان جانے والے تجارتی جہازوں کو لوٹ لیا کرتے تھے۔
- باغیوں کو پناہ دینا: سندھ کا حکمران راجہ داہر، بنو امیہ کے کئی باغیوں کو پناہ دیے ہوئے تھا، جو خلافتِ اسلامیہ کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے۔
- تبلیغِ اسلام: اسلام کی اشاعت خلافت کا اولین مقصد تھا، اور سندھ اس وقت مشرق کی طرف پیش قدمی کے لیے ایک اہم دروازہ تھا۔
وہ واقعہ جس نے تاریخ بدل دی (مظلوم کی پکار)
تاریخِ فرشتہ اور چچ نامہ کے مطابق، لنکا (سیلون) کے راجہ نے خلیفہ ولید بن عبدالملک اور حجاج بن یوسف کے لیے کچھ قیمتی تحائف اور ان عرب تاجروں کی بیوہ خواتین و بچوں کو آٹھ جہازوں میں روانہ کیا جن کا انتقال لنکا میں ہو گیا تھا۔
جب یہ قافلہ سندھ کے ساحل دیبل کے قریب پہنچا، تو سندھی قزاقوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ مردوں کو قتل کر دیا گیا اور خواتین و بچوں کو قیدی بنا لیا گیا۔ ان قیدیوں میں سے ایک عفت مآب خاتون نے بلند آواز میں پکارا: “یا حجاج! میری خبر لے۔”

جب یہ خبر حجاج بن یوسف تک پہنچی، تو اس کی غیرتِ ایمانی جوش میں آ گئی۔ اس نے راجہ داہر کو خط لکھا کہ قیدیوں کو رہا کیا جائے اور لٹیروں کو سزا دی جائے، لیکن داہر نے مغرورانہ جواب دیا کہ “قزاق میرے قابو سے باہر ہیں۔” یہ جواب جنگ کا اعلان تھا۔
محمد بن قاسم کا انتخاب: ایک نوجوان سپہ سالار
حجاج بن یوسف نے پہلے دو چھوٹے دستے بھیجے، لیکن وہ ناکام رہے۔ تب اس نے فیصلہ کیا کہ اب ایک مکمل لشکرِ جرار روانہ کیا جائے گا۔ اس مہم کے لیے اس نے اپنے سب سے قابل اعتماد اور ہونہار بھتیجے محمد بن قاسم کو منتخب کیا۔
اس وقت محمد بن قاسم کی عمر محض 17 سال تھی۔ بہت سے بزرگ جرنیلوں نے اعتراض کیا کہ اتنے کم عمر نوجوان کو اتنی بڑی مہم سونپنا خطرہ ہے، لیکن حجاج اپنی بصیرت پر قائم رہا۔ اس نے محمد بن قاسم کو 6,000 بہترین شامی گھڑ سوار، 6,000 اونٹ سوار اور ایک زبردست رسد کا قافلہ دے کر روانہ کیا۔
عسکری تیاری اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال
محمد بن قاسم صرف بہادر ہی نہیں بلکہ جدید جنگی فنون سے بھی واقف تھے۔ انہوں نے اپنے ساتھ “منجنیقیں” (قدیم زمانے کی توپیں) لیں۔ ان میں سب سے بڑی منجنیق کا نام “العروہ” تھا، جسے چلانے کے لیے 500 افراد کی ضرورت پڑتی تھی۔
حجاج بن یوسف نے محمد بن قاسم کو ہدایت دی تھی کہ وہ ہر مرحلے پر اسے خط لکھ کر صورتحال سے آگاہ کریں اور اس کے مشورے پر عمل کریں۔ یہ تاریخ کا وہ انوکھا رابطہ تھا جس نے ہزاروں میل دور بیٹھے سپہ سالار کو مرکز سے جوڑے رکھا۔
سندھ کی طرف کوچ اور پہلا پڑاؤ
محمد بن قاسم مکران کے راستے سندھ میں داخل ہوئے۔ راستے میں کئی چھوٹے قبائل نے ان کی اطاعت قبول کر لی کیونکہ وہ راجہ داہر کے ظلم و ستم سے تنگ آ چکے تھے۔ محمد بن قاسم کا اخلاق اور ان کا سلوک ایسا تھا کہ غیر مسلم بھی ان کے لشکر میں شامل ہونے لگے۔
جب یہ لشکر دیبل (موجودہ کراچی کے قریب) پہنچا، تو فضا تکبیر کے نعروں سے گونج اٹھی۔ یہ وہ مقام تھا جہاں سے برصغیر کی تقدیر بدلنے والی تھی۔
اگلی قسط میں آپ پڑھیں گے:
- دیبل کا معرکہ اور منجنیق “العروہ” کا جادو۔
- راجہ داہر کی عظیم الشان فوج اور مسلمانوں کی ثابت قدمی۔
- سندھ کے شہروں کی یکے بعد دیگرے فتح اور محمد بن قاسم کا مثالی نظامِ عدل۔
