تمہید: ایک عظیم شخصیت کا ظہور
انسانی تاریخ میں بہت کم ایسے نام ملتے ہیں جن کی ہیبت سے دشمن کے ایوان لرز اٹھتے تھے۔ خالد بن ولیدؓ کا نام ان سپہ سالاروں میں سرفہرست ہے جنہوں نے اپنی زندگی میں سینکڑوں جنگیں لڑیں لیکن کبھی شکست کا سامنا نہیں کیا۔ آپ کی زندگی کا ہر ورق شجاعت، بہادری اور ایمانی جذبے کی ایک ایسی داستان ہے جو رہتی دنیا تک آنے والے مجاہدین کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ حضرت خالد بن ولیدؓ: تاریخ کا ناقابلِ شکست جرنیل

نسب اور خاندانی پس منظر
حضرت خالد بن ولیدؓ کا تعلق قریش کے معزز قبیلے بنو مخزوم سے تھا۔ بنو مخزوم قریش میں اپنی دولت، طاقت اور جنگی مہارت کی وجہ سے مشہور تھا۔
- والد کا نام: ولید بن مغیرہ (جو قریش کا رئیسِ اعظم اور “وحیدِ عصر” کہلاتا تھا)۔
- والدہ کا نام: لبابہ صغریٰ (جو ام المومنین حضرت میمونہؓ کی بہن تھیں)۔
آپ کا خاندان قریش میں “قبہ” (خیمہ گاہ) اور “اعنہ” (گھڑ سوار دستے) کی ذمہ داری سنبھالتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ بچپن ہی سے خالد بن ولیدؓ کی رگوں میں فنِ سپہ گری دوڑ رہا تھا۔
ابتدائی زندگی اور تربیت
خالد بن ولیدؓ کی پرورش عرب کے ریگزاروں میں ایک شہزادے کی طرح ہوئی۔ آپ نے بچپن ہی سے گھڑ سواری، نیزہ بازی اور تلوار زنی میں وہ کمال حاصل کر لیا تھا جو ان کے ہم عصروں میں کسی کے پاس نہ تھا۔ آپ کا قد لمبا، جسم کسرتی اور آواز رعب دار تھی۔ عرب کے دستور کے مطابق، آپ کو بچپن میں صحرا بھیجا گیا تاکہ آپ کی زبان فصیح ہو اور جسم سخت کوشی کا عادی بنے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ: تاریخ کا ناقابلِ شکست جرنیل
اسلام سے قبل کا دور: میدانِ احد کا موڑ
قبولِ اسلام سے قبل خالد بن ولیدؓ اپنی خاندانی روایات کے تحت مسلمانوں کے خلاف صف آرا رہے۔ ان کی زندگی کا وہ موڑ جب ان کی جنگی ذہانت نے سب کو حیران کر دیا، وہ غزوہ احد تھا۔
جب مسلمانوں کے تیر اندازوں نے اپنی جگہ چھوڑی، تو یہ خالد بن ولیدؓ کی عقابی نظریں ہی تھیں جنہوں نے اس کمزوری کو بھانپا۔ انہوں نے پہاڑی کے پیچھے سے چکر لگا کر مسلمانوں پر اچانک حملہ کیا، جس نے جیتی ہوئی بازی کو وقتی طور پر بدل کر رکھ دیا۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ وہ پیدائشی طور پر ایک عظیم عسکری ذہن کے مالک تھے۔
قبولِ اسلام: ایک نئی زندگی کا آغاز
خالد بن ولیدؓ کا دل سچائی کی تلاش میں تھا۔ صلحِ حدیبیہ کے بعد جب حالات پرامن ہوئے تو آپ کے بھائی ولید بن ولید (جو پہلے ہی اسلام لا چکے تھے) نے آپ کو خط لکھا اور نبی کریم ﷺ کی آپ کے بارے میں خیر خواہی کا ذکر کیا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ: تاریخ کا ناقابلِ شکست جرنیل
حضور ﷺ کا فرمان:
نبی کریم ﷺ نے خالد بن ولیدؓ کے بھائی سے پوچھا تھا: “خالد کہاں ہے؟ اس جیسا عقل مند شخص اسلام سے کیسے دور رہ سکتا ہے؟”
جب یہ بات خالد بن ولیدؓ تک پہنچی، تو ان کے دل کی دنیا بدل گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ:
”اللہ نے میرے دل میں اسلام کی محبت ڈال دی۔ میں نے محسوس کیا کہ محمد (ﷺ) سچے ہیں اور وہ جو پیغام لائے ہیں وہ حق ہے۔”
8 ہجری میں خالد بن ولیدؓ، عمرو بن العاصؓ اور عثمان بن طلحہؓ کے ہمراہ مدینہ منورہ روانہ ہوئے۔ جب آپ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو چہرہ انور پر مسکراہٹ تھی۔ آپ نے کلمہ پڑھا اور عرض کیا: “یا رسول اللہ! میرے پچھلے گناہ معاف کرنے کی دعا فرمائیں”۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “اسلام پچھلے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے”۔ حضرت خالد بن ولیدؓ: تاریخ کا ناقابلِ شکست جرنیل
”سیف اللہ” کا لقب: غزوہ موتہ
اسلام لانے کے کچھ ہی عرصہ بعد خالد بن ولیدؓ کو اپنی ایمانی طاقت دکھانے کا موقع ملا۔ غزوہ موتہ وہ پہلی جنگ تھی جس میں آپ نے ایک عام سپاہی کی حیثیت سے شرکت کی، لیکن حالات نے آپ کو قیادت پر مجبور کر دیا۔
جب اسلامی لشکر کے تینوں نامزد سپہ سالار (حضرت زید بن حارثہؓ، حضرت جعفر طیارؓ اور حضرت عبداللہ بن رواحہؓ) شہید ہو گئے، تو مسلمانوں نے متفقہ طور پر قیادت خالد بن ولیدؓ کے سپرد کر دی۔ اس وقت مسلمانوں کی تعداد صرف 3,000 تھی جبکہ رومی لشکر 1,00,000 سے زائد تھا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ: تاریخ کا ناقابلِ شکست جرنیل
خالد بن ولیدؓ کی حکمتِ عملی:
- آپ نے لشکر کی ترتیب بدل دی۔ دائیں بازو کو بائیں اور اگلے حصے کو پیچھے کر دیا۔
- اس تبدیلی سے رومیوں کو لگا کہ مسلمانوں کو نئی مدد (Reinforcements) مل گئی ہے۔
- آپ نے اس مہارت سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا کہ رومی اسے جال سمجھ کر پیچھا کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔
اس جنگ میں خالد بن ولیدؓ کے ہاتھ سے 9 تلواریں ٹوٹیں۔ مدینہ میں وحی کے ذریعے حضور ﷺ نے صحابہ کو حالات بتائے اور فرمایا: “پھر جھنڈا اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے سنبھال لیا اور اللہ نے ان کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائی”۔ اسی دن سے آپ “سیف اللہ” کہلائے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ: تاریخ کا ناقابلِ شکست جرنیل
فتحِ مکہ میں کردار

جب 8 ہجری میں مکہ فتح ہوا، تو خالد بن ولیدؓ اس لشکر کے ایک اہم حصے کی قیادت کر رہے تھے جو نچلے حصے سے مکہ میں داخل ہوا۔ حضور ﷺ نے ہدایت دی تھی کہ جب تک کوئی حملہ نہ کرے، تلوار نہ اٹھائی جائے، لیکن خالد بن ولیدؓ کے دستے پر حملہ ہوا، جس کا انہوں نے بھرپور جواب دیا اور مکہ کو شرک سے پاک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ: تاریخ کا ناقابلِ شکست جرنیل
عزیزیٰ کے مقام پر موجود “عزیٰ” نامی بت کو ڈھانے کی سعادت بھی خالد بن ولیدؓ کے حصے میں آئی، جس سے عرب میں بت پرستی کی آخری نشانیاں ختم ہوئیں۔
آپؓ کی شخصیت کے نمایاں پہلو
- بے پناہ شجاعت: آپ کبھی بھی دشمن کی تعداد سے نہیں ڈرے۔
- خلوصِ نیت: آپ کا مقصد صرف اللہ کی رضا اور اسلام کی سربلندی تھا۔
- عسکری ایجادات: آپ نے جنگی چالوں میں ایسے تجربات کیے جو آج بھی جدید دفاعی اداروں میں پڑھائے جاتے ہیں۔
تمہید: خلافتِ صدیقی اور آزمائش کا دور
رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد عالمِ اسلام ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا تھا جہاں داخلی اور خارجی فتنے سر اٹھا رہے تھے۔ جزیرہ نما عرب کے کئی قبائل اسلام سے پھر گئے تھے اور کئی جھوٹے مدعیانِ نبوت نے سر اٹھا لیا تھا۔ ایسے کٹھن وقت میں خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جس شخصیت پر سب سے زیادہ اعتماد کیا، وہ “سیف اللہ” حضرت خالد بن ولیدؓ تھے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ: تاریخ کا ناقابلِ شکست جرنیل
فتنہ ارتداد اور خالد بن ولیدؓ کا کردار

فتنہ ارتداد اسلام کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مرتدین کے خلاف گیارہ لشکر روانہ کیے، جن میں سب سے اہم اور طاقتور لشکر کی کمان خالد بن ولیدؓ کے پاس تھی۔ آپ کو سب سے پہلے طلیحہ بن خویلد اسدی کے خلاف بھیجا گیا، جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ: تاریخ کا ناقابلِ شکست جرنیل
خالد بن ولیدؓ نے اپنی جنگی حکمتِ عملی سے طلیحہ کے لشکر کو شکست فاش دی اور اسے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ اس کے بعد آپ نے مالک بن نویرہ کے قبیلے کی سرکوبی کی اور عرب کے داخلی استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا۔
جنگِ یمامہ: مسیلمہ کذاب کا عبرتناک انجام
فتنہ ارتداد کا سب سے بڑا معرکہ “جنگِ یمامہ” تھا۔ بنو حنیفہ کا سردار مسیلمہ کذاب، جس کے پاس چالیس ہزار کا تربیت یافتہ لشکر تھا، مسلمانوں کے لیے بڑا خطرہ بن چکا تھا۔ خالد بن ولیدؓ تیرہ ہزار مجاہدین کے ساتھ یمامہ پہنچے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ: تاریخ کا ناقابلِ شکست جرنیل
معرکے کی شدت:
یہ جنگ تاریخِ اسلام کی خونریز ترین جنگوں میں سے ایک تھی۔ ابتدائی طور پر مرتدین کا پلہ بھاری تھا، لیکن خالد بن ولیدؓ نے اپنی فوج کی صف بندی نئے سرے سے کی:
- آپ نے مہاجرین، انصار اور دیہاتی قبائل کے الگ الگ دستے بنائے تاکہ ان کے درمیان مقابلے کا رجحان پیدا ہو اور کمزوری دکھانے والے گروہ کی نشاندہی ہو سکے۔
- آپ نے خود اگلی صفوں میں آ کر دشمن کو للکارا، جس سے مسلمانوں کے حوصلے بلند ہو گئے۔
بالآخر، مسلمانوں نے “حدیقۃ الموت” (موت کے باغ) میں گھس کر مسیلمہ کذاب کے لشکر کو تباہ کر دیا۔ وحشی بن حربؓ نے مسیلمہ کو قتل کیا، اور اس طرح نبوت کے اس جھوٹے دعویدار کا خاتمہ ہوا۔ اس جنگ میں سینکڑوں حفاظِ کرام شہید ہوئے، جس کے بعد قرآن مجید کی تدوین کا کام شروع کیا گیا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ: تاریخ کا ناقابلِ شکست جرنیل
عراق کی جانب پیش قدمی: سلطنتِ فارس سے ٹکر
داخلی فتنوں سے فارغ ہونے کے بعد، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خالد بن ولیدؓ کو عراق (جو اس وقت سلطنتِ فارس کا حصہ تھا) کی جانب پیش قدمی کا حکم دیا۔ یہ تاریخ کا وہ موڑ تھا جہاں ایک نئی ابھرتی ہوئی طاقت اس وقت کی سپر پاور “ساسانی سلطنت” سے ٹکرانے جا رہی تھی۔دحضرت خالد بن ولیدؓ: تاریخ کا ناقابلِ شکست جرنیل
1. جنگِ سلاسل (Battle of Chains)
عراق کی سرحد پر فارسی گورنر ہرمز نے ایک عظیم لشکر جمع کر رکھا تھا۔ اس جنگ کو “جنگِ سلاسل” اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ فارسی فوجیوں نے ایک دوسرے کو زنجیروں سے باندھ لیا تھا تاکہ کوئی میدان چھوڑ کر بھاگ نہ سکے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ: تاریخ کا ناقابلِ شکست جرنیل
خالد بن ولیدؓ نے دشمن کو تھکانے کی پالیسی اپنائی اور صحرا کی وسعتوں کو استعمال کرتے ہوئے ہرمز کو بار بار جگہ بدلنے پر مجبور کیا۔ جب جنگ شروع ہوئی تو خالد بن ولیدؓ نے ہرمز کو مبارزت (دو بدو لڑائی) کے لیے للکارا اور اسے ہلاک کر دیا۔ فارسی فوج میں بھگڈر مچ گئی اور مسلمانوں کو پہلی بڑی کامیابی نصیب ہوئی۔ حضرت خالد بن ولیدؓ: تاریخ کا ناقابلِ شکست جرنیل
2. جنگِ ولجہ اور دوہرا گھیرا (Pincer Movement)
حیرت انگیز فتوحات کا تسلسل
فارسیوں نے دوبارہ ایک بڑا لشکر بھیجا۔ اس جنگ میں خالد بن ولیدؓ نے وہ مشہورِ زمانہ “دوہرا گھیرا” (Pincer Movement) کا طریقہ استعمال کیا جو آج بھی دنیا کی بڑی فوجی اکیڈمیوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے دو دستے رات کی تاریکی میں دشمن کے پیچھے چھپا دیے تھے، جنہوں نے عین موقع پر حملہ کر کے فارسی فوج کو چاروں طرف سے محصور کر لیا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ: تاریخ کا ناقابلِ شکست جرنیل
عراق میں خالد بن ولیدؓ کی فتوحات کا سلسلہ رکا نہیں:
- جنگِ الیس: یہاں فارسیوں نے سخت مزاحمت کی، لیکن خالد بن ولیدؓ کے عزم کے سامنے نہ ٹک سکے۔
- حیرہ کی فتح: حیرہ اس وقت کا ایک اہم تجارتی اور عسکری مرکز تھا۔ خالد بن ولیدؓ نے بغیر کسی بڑی خوں ریزی کے اہل کفر کو جزیہ دینے پر آمادہ کر لیا۔
- انبار اور عین التمر: ان شہروں کی فتح نے مسلمانوں کے قدم عراق میں مضبوط کر دیے۔ انبار کی فتح میں مسلمانوں نے پہلی بار “تیر اندازوں کی دیوار” کا سامنا کیا، لیکن خالدؓ کی ذہانت نے یہاں بھی کامیابی دلائی۔
صحرا کا سفر: ایک ناممکن مشن
جب شام (شمالی محاذ) پر رومیوں نے مسلمانوں کو گھیر لیا، تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے عراق میں موجود خالد بن ولیدؓ کو فوری طور پر شام پہنچنے کا حکم دیا۔ عراق سے شام کا راستہ دشمن کی چوکیوں اور پانی سے محروم صحرا کی وجہ سے ناممکن تصور کیا جاتا تھا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ: تاریخ کا ناقابلِ شکست جرنیل
خالد بن ولیدؓ نے وہ کام کیا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی:
- انہوں نے 800 کلومیٹر کا فاصلہ صرف چند دنوں میں طے کیا۔
- پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اونٹوں کو پانی پلا کر ان کے پیٹ میں پانی ذخیرہ کیا (ایک قدیم صحرائی طریقہ)۔
- جب آپ شام پہنچے، تو رومی دنگ رہ گئے کہ یہ لشکر اتنے بڑے صحرا کو عبور کر کے کیسے آ گیا۔
خالد بن ولیدؓ کی جنگی حکمتِ عملی کے کلیدی نکات
- رفتار (Speed): آپ کی سب سے بڑی طاقت لشکر کی تیز رفتاری تھی۔ آپ دشمن کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیتے تھے۔
- نفسیاتی جنگ: آپ جنگ سے پہلے دشمن کے سپہ سالاروں کو خطوط لکھتے تھے جن میں اسلامی جرأت کا ذکر ہوتا تھا، جس سے دشمن کے حوصلے پست ہو جاتے۔
- مبارزت: آپ خود بہترین جنگجو تھے، اس لیے اکثر دشمن کے بڑے جرنیلوں کو دو بدو لڑائی میں ختم کر دیتے تھے، جس سے مخالف فوج کی قیادت ختم ہو جاتی۔
تمہید: شام کا محاذ اور رومیوں کا خوف

عراق کی فتوحات کے بعد جب حضرت خالد بن ولیدؓ صحرا کو چیرتے ہوئے شام پہنچے، تو وہاں اسلامی لشکر رومیوں کے ایک بہت بڑے ٹڈی دل کے سامنے کھڑا تھا۔ رومی شہنشاہ ہرقل نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ مسلمانوں کو شام سے نکال باہر کرے گا، اس مقصد کے لیے اس نے اپنی پوری سلطنت سے بہترین جنگجو اکٹھے کیے تھے۔ لیکن اسے یہ خبر نہیں تھی کہ اب اس کا مقابلہ “اللہ کی تلوار” سے ہونے والا ہے۔
معرکہِ یرموک: حق و باطل کا عظیم فیصلہ
دریائے یرموک کے کنارے ہونے والا یہ معرکہ تاریخِ اسلام کا وہ سنہرا باب ہے جس نے بازنطینی (رومی) سلطنت کی کمر توڑ دی۔
1. لشکروں کا موازنہ:
رومیوں کا لشکر تقریباً 2 لاکھ سے زائد مسلح سپاہیوں پر مشتمل تھا، جس میں آہنی لباس پہنے گھڑ سوار اور تربیت یافتہ دستے شامل تھے۔ دوسری طرف اسلامی لشکر کی کل تعداد صرف 36 ہزار سے 40 ہزار کے درمیان تھی۔ بظاہر یہ مقابلہ بالکل غیر متوازن تھا، لیکن خالد بن ولیدؓ کی جنگی بصیرت نے اس توازن کو بدل دیا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ: تاریخ کا ناقابلِ شکست جرنیل
2. خالد بن ولیدؓ کی انوکھی صف بندی:
آپ نے یرموک میں مسلمانوں کو 36 سے 40 چھوٹے دستوں (کردوس) میں تقسیم کر دیا تاکہ لشکر بڑا دکھائی دے۔ آپ نے پہلی بار “موبائل گارڈ” (Mobile Guard) کا تصور متعارف کرایا—یعنی ایک ایسا برق رفتار گھڑ سوار دستہ جو پورے میدانِ جنگ میں وہاں پہنچ جاتا جہاں مسلمان دستے کمزور پڑ رہے ہوتے۔
3. جنگ کے فیصلہ کن لمحات:
کئی دنوں تک جاری رہنے والی اس جنگ میں رومیوں نے اپنی پوری طاقت جھونک دی۔ ایک موقع پر رومیوں کے تیر اندازوں نے اتنی شدید تیر باری کی کہ بہت سے صحابہ کی آنکھیں زخمی ہوئیں (اس دن کو ‘یوم التعویر’ کہا جاتا ہے)۔ جب رومیوں نے سمجھا کہ وہ جیت رہے ہیں، تب خالد بن ولیدؓ نے اپنے محفوظ دستوں کے ساتھ وہ کاری حملہ کیا جس نے رومی صفوں کو تتر بتر کر دیا۔ رومی سپاہی اپنی ہی کھائیوں میں گرنے لگے اور ہرقل کا غرور خاک میں مل گیا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ: تاریخ کا ناقابلِ شکست جرنیل
فتحِ دمشق اور بیت المقدس کی راہ
یرموک کی عظیم الشان فتح کے بعد شام کے شہر ایک ایک کر کے مسلمانوں کے زیرِ نگیں آنے لگے۔ دمشق کی فتح میں بھی خالد بن ولیدؓ کی دلیری دیدنی تھی۔ انہوں نے رات کی تاریکی میں فصیل پر چڑھ کر شہر کا دروازہ کھولا، جس سے اسلامی لشکر اندر داخل ہوا۔ رومیوں کے لیے خالد بن ولیدؓ کا نام ہی شکست کا پیغام بن چکا تھا۔
حضرت عمر فاروقؓ کا دور اور معزولی کا حکم
اسی دوران خلافتِ صدیقی کا اختتام ہوا اور حضرت عمر فاروقؓ خلیفہ بنے۔ منصب سنبھالتے ہی حضرت عمرؓ نے جو پہلا بڑا فیصلہ کیا، وہ حضرت خالد بن ولیدؓ کو سپہ سالاری سے معزول کر کے حضرت ابوعبیدہ بن الجراحؓ کو امیر لشکر بنانا تھا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ: تاریخ کا ناقابلِ شکست جرنیل
یہ فیصلہ کیوں کیا گیا؟
یہ تاریخ کا ایک ایسا واقعہ ہے جسے بہت سے لوگ غلط رنگ دیتے ہیں، لیکن اس کے پیچھے ایک عظیم ایمانی حکمت تھی۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا:
”میں نے خالد کو کسی خیانت یا ناراضگی کی بنا پر نہیں ہٹایا، بلکہ اس لیے ہٹایا ہے کہ لوگ کہیں یہ نہ سمجھنے لگیں کہ فتح صرف خالد کی وجہ سے ملتی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ لوگ جان لیں کہ عزت اور نصرت دینے والی ذات صرف اللہ کی ہے۔”
خالد بن ولیدؓ کا ردِعمل (اطاعت کی مثال):
اگر کوئی دنیاوی جرنیل ہوتا تو وہ بغاوت کر دیتا، لیکن “سیف اللہ” کی عظمت دیکھیے! جب انہیں معزولی کا خط ملا، تو انہوں نے ذرا برابر بھی ملال نہ کیا اور فرمایا:
“میں عمر کے لیے نہیں، عمر کے رب کے لیے لڑتا ہوں۔”
آپ نے ایک عظیم جرنیل سے ایک عام سپاہی بن کر لڑنا قبول کیا اور ثابت کر دیا کہ آپ کا مقصد شہرت نہیں بلکہ اللہ کی رضا ہے۔

فتحِ قنسرین اور آخری معرکے
بطور سپاہی بھی خالد بن ولیدؓ کی کارکردگی میں کوئی کمی نہ آئی۔ فتحِ قنسرین کے موقع پر آپ نے رومیوں کے ایک قلعے پر ایسا حملہ کیا کہ دشمن حیران رہ گیا۔ حضرت عمرؓ کو جب اس فتح کی خبر ملی تو ان کی زبان سے بے اختیار نکلا:
“اللہ ابوبکرؓ پر رحم فرمائے، وہ مجھ سے زیادہ انسان شناس تھے، انہوں نے خالد کو صحیح پہچانا تھا۔”
بیماری اور وفات کا بستر
خالد بن ولیدؓ، جنہوں نے تمام عمر میدانِ جنگ میں گزاری، ان کی دلی تمنا تھی کہ وہ میدانِ کارزار میں شہادت کا مرتبہ پائیں۔ لیکن اللہ کی مشیت کچھ اور تھی۔ آپ 21 ہجری میں شام کے شہر حمص میں بسترِ علالت پر تھے۔
وفات کے وقت آپ رو رہے تھے اور فرما رہے تھے:
”میں نے سو سے زائد جنگیں لڑیں، میرے جسم پر ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں تلوار، نیزے یا تیر کا زخم نہ ہو، لیکن افسوس! میں میدانِ جنگ میں شہید نہ ہو سکا اور آج ایک بوڑھے اونٹ کی طرح اپنے بستر پر دم توڑ رہا ہوں۔”
ایک قریبی ساتھی نے عرض کیا: “اے خالد! آپ کو رنجیدہ نہیں ہونا چاہیے، رسول اللہ ﷺ نے آپ کو ‘اللہ کی تلوار’ کا لقب دیا تھا۔ اللہ کی تلوار کبھی میدانِ جنگ میں ٹوٹ نہیں سکتی تھی، اس لیے آپ کا بستر پر مرنا ہی آپ کی عظمت کی دلیل ہے۔”
خالد بن ولیدؓ کا ترکہ
جب آپ کا انتقال ہوا، تو آپ کی کل جائیداد میں صرف ایک گھوڑا، آپ کا اسلحہ اور ایک غلام تھا۔ یہ اس شخص کا کل اثاثہ تھا جس نے دو عظیم سلطنتوں کے خزانے مسلمانوں کے قدموں میں ڈھیر کر دیے تھے۔ آپ نے وصیت کی تھی کہ آپ کا اسلحہ اور گھوڑا جہادِ فی سبیل اللہ کے لیے وقف کر دیا جائے۔
قسط کا اختتام (خاتمہ)
حضرت خالد بن ولیدؓ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ کامیابی وسائل سے نہیں بلکہ اللہ پر کامل بھروسے اور امیر کی اطاعت سے ملتی ہے۔ وہ ایک ایسے سپہ سالار تھے جن کی کوئی مثال تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔
تحریر کے اختتامی کلمات:
آج بھی جب دنیا عسکری مہارتوں کی بات کرتی ہے، تو خالد بن ولیدؓ کا نام ایک روشن ستارے کی طرح چمکتا ہے۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)